صرف 375 ملازمین برسرکار، 2000ء میں ادارہ کے قیام کے بعد ملازمین کو پہلی بار جبری رخصت کا سامنا
واشنگٹن ۔ 21 اکٹوبر (ایجنسیز) امریکہ میں جاری حکومتی شٹ ڈاؤن نے نیوکلیئر سلامتی کے اہم ادارے کو مفلوج کر دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (NNSA) کے تقریباً 1400 ملازمین کو بغیر تنخواہ کے جبری رخصت (فرلو) پر بھیج دیا گیا ہے، جبکہ صرف 375 ملازمین اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں شٹ ڈاؤن چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جو تاریخ کا طویل ترین حکومتی تعطل بنتا جا رہا ہے۔امریکی محکمہ توانائی کے ترجمان بین ڈائیٹڈرچ نے تصدیق کی کہ سال 2000 میں ادارہ کے قیام کے بعد پہلی بار وفاقی ملازمین کو فنڈنگ کے تعطل کے باعث فرلو پر بھیجا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فنڈز کو زیادہ سے زیادہ وقت تک بڑھانے کی کوشش کی، لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔’’بلٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس کے مطابق، امریکہ کے پاس 5177 نیوکلیئر وار ہیڈز موجود ہیں جن میں سے 1770 تعینات ہیں۔ این این ایس اے نیوکلیئر ہتھیاروں کے ڈیزائن، تیاری، مرمت اور تحفظ کی ذمہ دار ہے اور 60 ہزار ٹھیکیداروں کی نگرانی کرتی ہے۔سی این این کے مطابق، شٹ ڈاؤن کا اثر سب سے پہلے ان نیوکلیئر تنصیبات پر پڑا ہے جہاں ہتھیار تیار کیے جاتے ہیں، جن میں ٹیکساس کا پینٹیکس پلانٹ اور ٹینیسی کا Y-12 پلانٹ شامل ہیں، جنہیں اب ‘‘سیف شٹ ڈاؤن موڈ’’ میں ڈال دیا گیا ہے۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریپبلکنز کے ساتھ مل کر حکومت کی فنڈنگ بحال کرنے میں تعاون کریں۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو عوامی خدمات میں کٹوتی اور مزید برطرفیاں کی جائیں گی۔سینیٹ ریپبلکنز نے ہیلتھ کیئر سبسڈی کی بحالی کے بدلے حکومت دوبارہ کھولنے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن اور ٹرمپ کی منظوری کے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں۔مائیک جانسن نے کہا کہ حکومت جتنے دن بند رہے گی، امریکی عوام اتنے ہی زیادہ خطرے میں ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ میں اپنے حریفوں سے پیچھے رہا تو یہ ملک کی عالمی حیثیت کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔
