امریکہ میں مقیم 1350سے زائد ملازمین کی برطرفی کا عمل شروع

   

محکمہ خارجہ کے سینئر اہلکار کے مطابق برطرفیوں میں رضاکارانہ استعفے بھی شامل

واشنگٹن12جولائی (یو این آئی) امریکی محکمہ خارجہ نے امریکہ میں مقیم ایک ہزار 350 سے زائد ملازمین کو برطرف کرنا شروع کر دیا ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سفارتی عملے کی تاریخی تنظیمِ نو کی طرف بڑھ رہی ہے ، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکہ کی بیرون ملک اپنے مفادات کے دفاع اور فروغ دینے کی صلاحیت کو کمزور کرے گا۔ڈان میں شائع برطانوی خبر رساں اایجنسی ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک داخلی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ برطرفیاں امریکہ میں مقیم ایک ہزار 107 سول سروس اور 246 فارن سروس افسران پر مشتمل ہوں گی۔نوٹس میں مزید کہا گیا کہ محکمہ سفارتی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اندرونی آپریشنز کو آسان بنا رہا ہے ، ہیڈکاؤنٹ میں کمی کو غیر اہم افعال، متوازی یا غیر ضروری دفاتر، اور ایسے دفاتر تک محدود رکھا گیا ہے ، جہاں کافی بچت ممکن ہو۔محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ یہ مجموعی کمی تقریباً 3 ہزار ملازمین پر مشتمل ہوگی، جس میں رضاکارانہ استعفے بھی شامل ہیں، جو کہ امریکہ میں مقیم 18 ہزار ملازمین میں سے ہوں گے ۔ یہ اقدام تنظیم نو کے اس منصوبے کا پہلا قدم ہے جسے صدر ٹرمپ نے اپنی ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متعارف کرایا ہے ، سابق سفارت کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ فارن سروس افسران کو نکالنے سے امریکہ کی چین اور روس جیسے بڑھتے ہوئے حریفوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی۔ورجینیا سے منتخب ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور سیکریٹری آف اسٹیٹ روبیو ایک بار پھر امریکہ کو کم محفوظ بنا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان احمقانہ ترین فیصلوں میں سے ایک ہے ، جو ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب چین دنیا بھر میں اپنی سفارتی موجودگی بڑھا رہا ہے ، بیرون ملک فوجی اور نقل و حمل کے اڈے قائم کر رہا ہے ، روس ایک خودمختار ملک پر برسوں سے سفاکانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے ، اور مشرق وسطیٰ بحران در بحران میں اترتا جا رہا ہے ۔فروری میں ٹرمپ نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو حکم دیا تھا کہ وہ فارن سروس کو ازسرِنو ترتیب دیں تاکہ ریپبلکن صدر کی خارجہ پالیسی ‘وفاداری کے ساتھ’ نافذ کی جا سکے ۔ٹرمپ بارہا وعدہ کرچکے ہیں کہ وہ ڈیپ اسٹیٹ کو ختم کریں گے اور ان بیوروکریٹس کو برطرف کریں گے جنہیں وہ وفادار نہیں سمجھتے ، یہ تنظیم نو وفاقی بیوروکریسی کو سکیڑنے اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کے مبینہ ضیاع کو روکنے کے ٹرمپ کے غیر معمولی اقدام کا حصہ ہے ۔مارکو روبیو نے اپریل میں اس تنظیم نو کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ محکمہ خارجہ اپنی موجودہ حالت میں ‘فالتو بیوروکریسی زدہ’ ہے اور نئی عظیم طاقتوں کی مسابقت کے دور میں اپنے مشن کو پورا کرنے کے قابل نہیں۔ ان کا ویژن یہ ہے کہ علاقائی دفاتر اور سفارت خانوں کو زیادہ اختیارات دیے جائیں اور ان پروگراموں اور دفاتر کو ختم کر دیا جائے ، جو امریکا کے بنیادی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے ۔اس وژن میں شہری سلامتی، جمہوریت، اور انسانی حقوق کے اعلیٰ ترین عہدے کو ختم کرنا اور ان دفاتر کو بند کرنا شامل ہے جو دنیا بھر میں جنگی جرائم اور تنازعات کی نگرانی کرتے تھے ۔تنظیم نو کو یکم جولائی تک مکمل ہونا تھا لیکن جاری قانونی کارروائی کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہو گیا، محکمہ خارجہ اس عدالتی حکم کو روکنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش پر امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہا تھا، جس سے بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفی روکی گئی تھی۔ منگل کو، عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو ملازمین کی برطرفی اور متعدد ایجنسیوں کی مکمل تنظیم نو کی اجازت دے دی، اس کے بعد وائٹ ہاؤس کے مشیروں اور وفاقی ملازمین کے دفتر نے دیگر وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی تاکہ ان اقدامات کو قانونی تقاضوں کے مطابق بنایا جا سکے ۔گزشتہ ہفتے ، 130 سے زائد ریٹائرڈ سفارت کاروں اور دیگر سابقہ سینئر امریکی حکام نے تنظیم نو کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے ایک کھلا خط جاری کیا تھا۔