امریکہ میں پاکستانی سفارت کاروں کی حرکات و سکنات پر عائد پابندیاں برخاست

   

Ferty9 Clinic

گزشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا دورہ ٔ امریکہ ثمرآور
امریکہ کی جانب سے 125 ملین ڈالرس کی امداد بھی جاری

اسلام آباد۔8 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے پاکستانی سفارت کاروں اور سفارتی اسٹاف پر گزشتہ سال ان کی حرکات و سکنات پر عائد تحدیدات کو فوری اثر کے ساتھ ختم کردیا۔ میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے جو تحدیدات عائد کی تھیں اس کے مطابق پاکستانی سفارت کاروں کو ان کے مقام تقرری (ایسے امریکی شہر جہاں ان کی تعیناتی عمل میں آئی ہے) سے 25 میل سے زائد دوری تک جانے کی اجازت نہیں تھی اور اگر وہ کسی دیگر شہر کے دورہ کا منصوبہ بنارہے ہیں تو انہیں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے اپنے سفر سے پانچ روز قبل خصوصی اجازت لینا پڑتی تھی۔ امریکہ کے ان اقدامات کے بعد پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی سفارت کاروں کی حرکات و سکنات پر تحدیدات عائد کردی تھی۔ انگریزی اخبار ڈان کی اطلاع کے مطابق امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سفارت کاروں کی حرکات و سکنات پر تحدیدات کی برخاستگی کے بعد پاکستان نے بھی امریکی سفارت کاروں کی حرکات و سکنات پر عائد جوابی تحدیدات ختم کردی ہیں جس کا گزشتہ سال اطلاق کیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے امریکہ کا دورہ کیا تھا اور اب تک اس معاملہ پر دفتر خارجہ نے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ عمران خان کے گزشتہ ماہ امریکی دورہ پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ سے خواہش کی تھی کہ پاکستانی سفارت کاروں کی حرکات و سکنات پر جو تحدیدات امریکہ نے عائد کی ہیں انہیں ہٹالیا جائے کیوں کہ تحدیدات اور حرکات و سکنات پر پابندی سے سفارت کار اپنی کارکردگی اطمینان بخش طور پر انجام دینے سے قاصر ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایکبار پھر ضروری ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی اپریل 2018ء میں اس وقت عروج پر پہنچ گئی تھی جب امریکی سفارت کار جوزف ایمونیل ہال اسلام آباد میں ٹریفک سرخ سگنل توڑنے کے مرتکب ہوئے تھے جس میں ایک موٹرسائیکل سوار ہلاک اور ایک دیگر مسافر زخمی ہوگئے تھے۔ اسلام آباد کی ایک عدالت نے بعدازاں یہ حکم جاری کیا تھا کہ امریکی سفارت کار قانونی کشاکش کے دائرہ کار میں نہیں آتے اور انہیں کسی بھی نوعیت کی عدالتی رعایت حاصل نہیں ہے جس کے بعد حکومت پاکستان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ امریکی سفارت کار کے نام کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کیا جائے تاکہ وہ پاکستان چھوڑکر نہ جاسکیں۔ جنوری 2018ء میں ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سب سے پہلے ٹوئٹ کے ذریعہ دہشت گردی سے نمٹنے میں ناکامی پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم دوسری طرف یہ بات بھی قابل غور ہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کے بعد حیرت انگیز طور پر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری پیدا ہوئی ہے اور اس کے بعد ہی ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو 125 ملین ڈالرس کی امداد جاری کی ہے جو امریکی ساختہ F-16 لڑاکا طیاروں کی مرمت اور تزئین نو کے لیے خرچ کیے جائیں گے جو پاکستان نے امریکہ سے خریدے تھے۔