نیویارک : امریکہ میں قانونی تارکینِ وطن کے ڈھائی لاکھ سے زائد بچوں کو ملک بدری کے خطرے کا سامنا ہے۔ ان میں ایک بڑی تعداد ہندوستانی نژاد باشندوں کے بچوں کی بھی ہے۔ جب یہ بچے 21 سال کے ہوں گے تب اِن کا زیرِکفالت ہونے کا اسٹیٹس ختم ہوجائے گا۔ امریکی ایوانِ صدر نے اس حوالے سے قوانین میں تعطل پر ری پبلکنز کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے جبکہ بہت سے قانون ساز اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور اداروں کا کہنا ہے کہ قانونی تارکینِ وطن کے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور وہ بھی فوری طور پر۔ امریکی میڈیا میں اِن بچوں کو ایسے خواب دیکھنے والے کہا جاتا ہے جن کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ یہ بچے اپنے والدین کے ساتھ ان کے آبائی وطن سے عارضی ورک ویزا پر آئے تھے اور امریکہ ہی میں پلے بڑھے ہیں۔ دی نیشنل فاؤنڈیشن فار امریکن پالیسی نے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ 2 نومبر 2023 تک زیرِکفالت افراد سمیت کم و بیش 12 لاکھ ہندوستانی باشندے امریکی گرین کارڈ پانے کی ویٹنگ لِسٹ میں ہیں۔ یہ بات معروف جریدے فوربس کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔