اگر دنیا امن اور استحکام چاہتی ہے تو جارحیت کو نوازنا بند کرنا ہوگا ، فلسطین کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں
تہران، 7 فروری (یو این آئی) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطے میں موجود ن کے تمام فوجی اڈے ہمارا نشانہ ہوں گے ۔ عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ سے جوہری مذاکرات کا اگلا دور ابھی طے نہیں ہوا، دونوں فریق چاہتے ہیں کہ بات چیت جلد شروع ہو۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا طریقہ کار نہیں بلکہ ایجنڈا اور سنجیدگی اہم ہے ، عمان میں ہونے والے مذاکرات صرف ایٹمی حملے تک محدود تھے ۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی ہمارا ناقابل تردید حق ہے جسے بمباری سے ختم نہیں کیا جاسکتا، ہمارے پاس جنگ اور سفارت کاری دونوں آپشن موجود ہیں۔ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ نے اگر حملہ کیا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا، میزائل پروگرام دفاعی معاملہ ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اولین ترجیح جنگ سے بچاؤ اور سفارتی حل ہے ، فیصلہ امریکہ پر ہے کہ وہ مذاکرات یا جنگ میں سے کونسا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ عراقچی نے کہا ہے کہ خطے میں استحکام کیلئے یہ پہچاننا ہوگا کہ فلسطین کامسئلہ صرف سیاسی نہیں یہ ایک اسٹریٹیجک مسئلہ ہے ۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دوحہ میں الجزیرہ فورم سے خطاب میں کہا کہ اگر دنیا امن اور استحکام چاہتی ہے تو جارحیت کو نوازنا بند کرنا ہوگا، دنیا کو دہرا معیار ختم کرنا ہوگا، ہمیں بیانات سے بڑھ کر مشترکہ قدم اٹھانا ہوگا، فلسطین کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں یہ ایک اسٹریٹیجک مسئلہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں بیانات سے بڑھ کر ایک مشترکہ اقدام اٹھانا ہوگا، فلسطین مغربی ایشیا میں انصاف کا بنیادی سوال ہے ۔
فلسطین مسئلہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے لیے کڑا امتحان ہے ، دیکھنا ہوگا عالمی ادارے کمزوروں کو بچاتے ہیں یا طاقتوروں کو جواز دیتے ہیں۔ عباس عراقچی نے خطاب میں کہا کہ فلسطینی بحران غیر قانونی قبضے اور بنیادی حقوق سے محرومی کا نتیجہ تھا، اب بحران صرف قبضے تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے ، غزہ میں جو ہو رہا ہے وہ صرف جنگ یا سیکیورٹی کارروائی نہیں، غزہ میں برابر فریقوں کے درمیان تنازع نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر تباہی ہے ۔