امریکہ نے سعودی عرب کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے

   

سعودی ولیعہد نے ملک کو ترقی دی، خطہ میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں اہم رول : ایڈم بوہلر

واشنگٹن: ایک سینئر امریکی عہدیدار نے ’’ العربیہ‘‘ کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے یوکرینی بحران پر مذاکرات کے تین دوروں میں میزبانی کی گئی۔ ریاض مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے امریکہ سعودی شراکت داری کی مضبوطی کی تصدیق ہیں۔وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ معاہدوں سے علاقائی اور بین الاقوامی استحکام اور سلامتی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک بڑے ثالث کے طور پر ریاض کا کردار خطے میں امن و استحکام کو فروغ دے رہا ہے۔دریں اثنا وائٹ ہاؤس نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے 23 سے 25 مارچ تک ریاض میں روسی اور یوکرینی وفود کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے شکریہ ادا کیا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ اور روس کے درمیان بحیرہ اسود میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا۔ اس عزم کے ساتھ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ فوجی طاقت کے براہ راست تجارتی یا تجارتی بحری جہازوں کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال سے گریز کیا جائے۔امریکی صدر کے ایلچی برائے یرغمالی امور ایڈم بوہلر نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان شراکت داری مضبوط اور ٹھوس ہے۔ بلر نے اپنے بیانات میں کہا کہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کے ملک کو ترقی اور تعمیر کی طرف گامزن کیا ہے۔دونوں ملک قابل ذکر تاریخی تزویراتی عناصر سے جڑے ہوئے ہیں جو انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ واشنگٹن کے ساتھ ریاض کا تعلق 1931 سے ہے۔ یہ دوطرفہ تعلقات خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت کو بہتر بناتے ہیں۔ ان ممالک کی سیاسی، سلامتی اور اقتصادی حیثیت اور G2 میں ان کی رکنیت کی بنیاد پر بین الاقوامی سلامتی اور امن کو بڑھانے میں ان کا اہم کردار ہے۔اسی حوالے سے سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ آٹھ دہائیوں کے دوران سعودی عرب کے امریکہ کے ساتھ تعلقات مضبوط اور مستحکم ثابت ہوئے ہیں۔ ان تعلقات میں میں دہشت گردی اور عسکری کارروائیوں سے نمٹنے سے لے کر اقتصادی تبادلے اور سرمایہ کاری تک کے حوالے سے قریبی رابطے ہیں۔ دونوں ممالک نے تمام اہم شعبوں میں مضبوط تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔