صرف پاکستان کیلئے ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کیلئے بھی آئین کی بالادستی کی حمایت: امریکہ
ماسکو/واشنگٹن: روس نے امریکہ پر پاکستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے روس کا دورہ منسوخ نہ کرنے پر’’نافرمان ‘‘ عمران خان کوسزا دی۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اوراس کے مغربی اتحادی فروری میں روس کا دورہ منسوخ کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان پرزبردست دباؤ ڈالتے رہے۔روسی ترجمان نے بتایا کہ جب وہ اس کے باوجود روس آئے تو امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ڈونالڈ لیو نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیرکوفون کرکے طلب کیااوروزیرعظم کے دورے کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا جسے مسترد کر دیا گیا۔روسی عہدیدارکایہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس کے بعد پیدا صورتحال سے واضح ہے کہ امریکہ نے بات نہ ماننے پر’نافرمان ‘ عمران خان کوسزا دینے کا فیصلہ کیا۔عمران خان کی اپنی جماعت تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اچانک اپوزیشن سے مل گئے اورپارلیمان میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی، اس پیش رفت سے کوئی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ امریکہ نے ‘نافرمان’ عمران خان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔روسی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی تحلیل امریکہ کی جانب سے آزاد ریاست کے معاملات میں اپنے خود غرضانہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے مداخلت کی شرمناک کوشش ہے۔دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ ہم کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتے لہٰذا امریکہ پر لگائے گئے الزامات میں قطعی حقیقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ آئین کی پرامن بالادستی اور جمہوری اصولوں ،قانون کی حکمرانی اور اس کے تحت برابری کے اصول کو سپورٹ کرتا ہے جب کہ یہ اصول صرف پاکستان نہیں دنیا کے دوسرے ممالک کے لیے بھی ہے۔
عمران کیخلاف امریکہ کا ہاتھ، 64 فیصدپاکستانیوں کا عدم اتفاق
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کی رائے سے اختلاف ۔سروے میں انکشاف
اسلام آباد: پاکستان میں کرائے گئے ایک سروے نے واضح کیا ہے کہ 64 فیصد پاکستانی اس بات کو درست نہیں مانتے کہ عمران حکومت کو ہٹانے میں امریکہ کا ہاتھ ہے ۔عمران ان کی حکومت کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے کے بعد سے مسلسل اس کے پیچھے امریکی سازش ہونے کا الزام لگا رہے ہیں لیکن اس رائے شماری میں لوگوں نے حکومت کی اس کہانی کو مسترد کرتے ہوئے عمران حکومت کے خاتمے کا مہنگائی کو اہم وجہ بتایا ہے ۔ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔پاکستانی اخبار ڈان نے چہارشنبہ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گیلپ پاکستان کے سروے میں صرف 36 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت گرانے کی کوشش کے پیچھے امریکی سازش کارفرماہے ۔ اس ٹیلی فونک سروے میں 3 سے 4 اپریل تک 800 خاندانوں کی رائے لی گئی۔ سروے میں جن لوگوں نے یہ تسلیم کیا کہ مہنگائی حکومت کو ہٹانے کے لئے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے اپوزیشن محرک ہے ، ان میں 74 فیصد سندھ، 62فیصد پنجاب اور 59 فیصد پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے لوگ شامل تھے ۔ایک اور سروے میں تقریباً 54 فیصد لوگوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی ساڑھے تین سال کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا جب کہ 46 فیصد نے اطمینان کا اظہار کیا۔ سروے کے مطابق 68 فیصد لوگوں نے نئے انتخابات کے لیے عمران خان کی کارروائی کی ستائش کی۔ سروے میں 72 فیصد لوگوں نے امریکہ کو پاکستان کا دشمن اور 28 فیصد لوگوں نے دوست کہا۔ ساڑھے تین سال کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی سے متعلق سوال پر 54 فیصد لوگوں نے عمران خان کے دور حکومت پر مایوسی کا اظہار کیا جب کہ 46 فیصد نے کسی حد تک اطمینان کا اظہار کیا۔عمران حکومت کی کارکردگی پر اعلیٰ سطح پر اطمینان کا اظہار کرنے والوں میں 60 فیصد کا تعلق پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے تھا جب کہ اسی صوبے کے 40 فیصد لوگوں نے عمران حکومت کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا۔وہیں سندھ میں 43 فیصد لوگوں نے عمران خان ان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا لیکن 57 فیصد نے مایوسی کا اظہار کیا۔پنجاب کے معاملے میں 45 فیصد لوگوں نے عمران حکومت کے کام کو صحیح مانا، لیکن 55 فیصد لوگوں نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ حکومت کے خاتمے اور قومی انتخابات کے مطالبے پر 68 فیصد لوگوں نے اتفاق کیا جبکہ 32 فیصد نے اسے مسترد کر دیا۔