نیویارک ۔ یکم فروری: جو بائیڈن انتظامیہ نے تقریباً تمام نان امیگرینٹ ویزوں کی فیسوں میں اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے یہ اضافہ ویزے کی خدمات کو بہتر کرنے کیلیے ناگزیر ہے، جب کہ ناقدین فکر مند ہیں کہ اگرحکومت ویزوں کے اجرا میں لگنے والے وقت کو کم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کرتی تو فیس میں اس اضافے کے نتیجے میں امریکہ آنے والے مسافروں اور طالب علموں کی تعداد میں کمی ہوجائے گی۔فیڈرل رجسڑ نوٹس کے مطابق محکمہ خارجہ کو توقع ہے کہ نئی فیس ستمبر تک لاگو ہوجائیں گی اور فیس کے اضافے کی تجویز پروضاحت اٹھائیس فروری تک وصول کی جائے گی۔کاٹو انسٹیٹوٹ میں امیگریشن پالیسی کے ماہر ڈیوڈ بائر نے بتایا کہ فیس میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب امریکہ میں سیاحت اور سفر پہلے ہی بہت کم سطح پر ہے اور محکمہ خارجہ بہت سے مقامات پر سیاحت اور تجارت کے سفری ویزے کی درخواست کے بعد انتظار کی مدت چھ ماہ سے ایک سال کر رہا ہے۔