بارہا اپیل کے باوجود مسلمانوں کی جانب سے استعمال باعث حیرت
حیدرآباد۔3۔مارچ۔(سیاست نیوز) غزہ میں معصوم بچوں پر مظالم کے بعد ان مسلم دنیا کو آپس میں لڑانے کے مرتکب اسرائیل و امریکہ کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری ہے اور کئی مسلمان اسرائیلی مصنوعات واشیاء کے استعمال سے متعلق کئی برسوں سے احتیاط کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اسرائیلی و امریکی مصنوعات و ریستوران کے علاوہ کئی اشیاء عدم معلومات کے سبب مسلسل استعمال کی جا رہی ہیں۔جن اسرائیلی اشیاء کو عام ہندستانی استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی معیشت کو مستحکم کرنے کا سبب بن رہے ہیں ان اشیاء میں کوکاکولہ ‘ کیڈبری ‘ کرکرے ‘ لیس‘ کے ایف سی ‘ پیزا ہٹ‘ پراکٹراینڈ گیمبل ‘ میگی‘ کے علاوہ کئی بوتل بند مشروبات شامل ہیں۔ اب جبکہ ماہ رمضان المبارک کا سلسلہ جاری ہے تو ایسی صورت میں ’نیسلے‘ اپنے دودھ کی فروخت کے لئے متعدد ذرائع کا استعمال کرنے کے علاوہ رعایتی قیمتوں پر دودھ کی فروخت کو یقینی بناتے ہوئے کروڑہا روپئے کے کاروبار کو یقینی بناتا ہے ۔ امت مسلمہ اگر منصوبہ بند انداز میں اسرائیلی و امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا سلسلہ شروع کرتی ہے تو ایسی صورت میں ہندستان بھر سے ہی اسرائیل اور امریکہ کو لاکھوں کروڑ کا نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملہ کے بعد ہندستان بھرکے مختلف شہروں میں جاری احتجاجی پروگراموں کے دوران اب اس بات کی اپیل کی جانے لگی ہے کہ اسرائیلی و امریکی مصنوعات کے مستقل بائیکاٹ کا آغاز کیا جائے اور ان جگہ متبادل اشیاء کے استعمال کو فروغ دینے کے اقدامات کئے جائیں۔ ہندستانی شہروں میں جہاں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ان شہروں میں اسرائیلی وامریکی پرچموں کی توہین کے ساتھ بائیکاٹ کا جو سلسلہ شروع کیاگیا ہے اگر اسے عوامی سطح پر مضبوط و مستحکم کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں دونوںممالک کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے میں عوام اپنا تعاون کرسکتی ہیں۔ اسرائیلی مظالم اور فلسطینی عوام کو ان کے گھروں سے بیدخل کرنے کے علاوہ معصوم بچوں کو شہید کئے جانے کے خلاف کئی برسوں سے اسرائیلی مصنوعات اور اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم کا سلسلہ جاری ہے لیکن اب جبکہ خلیجی ممالک میں جنگی صورتحال پیدا ہوچکی ہے تو دوبارہ بائیکاٹ کی اس مہم کو شروع کیا جانے لگا ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران علمائے اکرام ‘ سیاسی قائدین اور عمائدین ملت کی جانب سے اسرائیلی و امریکی اشیاء کے بائیکاٹ کے سلسلہ میں شعور بیداری مہم کا آغاز کرتے ہیں تو ایسی صورت میں عالم اسلام اور انسانیت کے خلاف جاری اسرائیلی جنگی جرائم کے خلاف ہم زبانی یا اخباری بیان بازی سے اوپر کسی حد تک اپنی بساط بھر کوشش کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔3