امریکہ دھمکانا بند کرے اور سمجھداری کا مظاہرہ کرے
تہران، 15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اس پر عائد پابندیوں کو ہٹاتا ہے تو وہ بات چیت کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے اتوار کے روز کہاکہ ‘‘ہم ہمیشہ سے بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں دھمکانا بند کریں اور سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پابندیوں ہٹائیں۔ ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں’’۔اس سے قبل جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے بین الاقوامی نیوکلیئر معاہدے کے تحت مشترکہ کارروائی منصوبہ (جے سی پی آر) کے تمام ارکان کی میٹنگ بلانے کا اعلان کیا۔ ان ممالک کے مطابق ایران پر امریکہ کے مسلسل پابندی لگانے اور ایران کے اس معاہدے کے التزامات کو توڑنے کی وجہ سے اس پر خطرہ منڈلا رہا ہے ۔مسٹر روحانی نے کہا کہ ایران نے اپنی اسٹریٹجک تحمل کی پالیسی کو تبدیل کرکے جوابی کارروائی کی پالیسی اپنا لی ہے ۔گذشتہ ہفتے ایران نے بین الاقوامی نیوکلیئر معاہدے کے تحت یورینیم افزودگی کی طے شدہ حد سے تجاوز کر لیا ہے ۔ ایران نے 3.67 فیصد کی مقررہ حد سے تجاوز کر کے اپنا یورینیم اضافہ 4.5 فیصد تک کر لیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ خلیج عمان میں گذشتہ ماہ آبنائے ہرمز کے قریب دو تیل ٹینکروں الٹیئر اور کوککا کریجیس میں دھماکے کے واقعہ اور ایران کی طرف سے امریکہ کے انٹیلی جنس ڈرون طیارے کو مار گرانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال مئی میں ایران نیوکلیئر معاہدے سے اپنے ملک کو الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں کافی تلخی آگئی ہے ۔ اس نیوکلیئر معاہدے کے التزامات کو نافذ کرنے کے سلسلے میں بھی شک و شبہات کی حالت بنی ہوئی ہے ۔واضح رہے کہ سال 2015 میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے ۔ معاہدے کے تحت ایران نے اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے اپنے نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا۔
