امریکہ پھر فلسطین۔ اسرائیل تنازعہ کیلئے سرگرم

   

Ferty9 Clinic

واشنگٹن : امریکہ ایک بار پھر فلسطین اسرائیل تنازعہ کے لیے متحرک ہوگیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے اس دیرینہ مسئلے کے دو ریاستی حل کے لیے دوبارہ کوششیں کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اس سلسلے میں اسرائیلی وزیر خارجہ گبی اشکنازی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی اور زور دیا کہ جمہوری اقتدار، سلامتی، آزادی اور دیگر معاملات میں فلسطینیوں کو برابر حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کی پالیسی سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے مختلف ہے، اور موجودہ انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے سابق امریکی پالیسی کے قطعی حق میں نہیں ہے۔ تاہم خطے میں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ اس کی مثال سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا تازہ بیان ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کو بے پناہ فوائد کا حامل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ایسے کسی سمجھوتے کا انحصار اسرائیل اور فلسطینی امن عمل پر ہے۔ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے سارے خطے کو بے پناہ فائدہ حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس کی بھی وضاحت کی کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی براہ راست اسرائیلی فلسطینی امن عمل کے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار امریکی نیوز چینل سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں 4عرب ریاستوںنے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے سمجھوتے کیے تھے۔