امریکہ چھ رکنی وفد بنگلہ دیش کو انتخابی جائزہ کیلئے بھیجے گا

   

ڈھاکہ: انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ امریکی حکومت کی فنڈنگ سے بنگلہ دیش میں ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ پری الیکشن اسیسمنٹ مشن بھیجیں گے ۔ امریکی سفارت خانہ کے پریس اٹیچیی اور ترجمان برائن شلر نے گزشتہ روز ڈھاکہ میں امریکن سنٹر میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ چھ رکنی وفد اور اس کا معاون عملہ 7 تا 13 اکتوبر بنگلہ دیش کا دورہ کرے گا۔ یہ تقریب بنگلہ دیش یو ایس فارانٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے نئے مشن ڈائریکٹر ریڈ اسکیلمن کے استقبال کیلئے منعقد کی گئی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ پی ای اے ایم کے نمائندے بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن، مختلف سرکاری ایجنسیوں، سیاسی جماعتوں، شہری مبصرین، سیول سوسائٹی ، خواتین اور نوجوانوں کی تنظیموں کے نمائندوں سے بات کریں گے ۔
مندوبین مقامی اور بین الاقوامی میڈیا تنظیموں اور بنگلہ دیش میں غیر ملکی سفارتی مشنوں کے نمائندوں سے بھی بات کریں گے ۔ دورے کے اختتام پر وفد ایک عوامی بیان جاری کرے گا جس میں وہ اس بات کا ذکر کریں گے کہ کیا انہیں انتخابات کیبارے میں کوئی تحفظات ہیں یا نہیں اور عملی سفارشات فراہم کریں گے ۔ امریکہ واپس آنے کے بعد وہ بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز اور پالیسی سازوں کے ساتھ اپنا تجربہ شیئر کریں گے ۔ نمائندوں کا بنیادی مقصد بنگلہ دیش میں قومی انتخابات کی تیاری اور سیاق و سباق کے بارے میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ معلومات فراہم کرنا ہوگا۔ یہ اس پر بھی اپنی رائے دے گا کہ کیا انتخابات کے دن ایک محدود بین الاقوامی انتخابی مشاہداتی مشن بھیجا جانا چاہیے ۔ اس سے قبل مئی میں امریکا نے ایک نئی ویزا پالیسی کا اعلان کیا تھا جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش میں جمہوری انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے کے لیے جو بھی وہ ذمہ دار یا ملوث سمجھے گا اسے امریکی ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔