امریکہ کا حسینہ حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا تصور مسترد

   

واشنگٹن؍ڈھاکہ: امریکہ نے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو مسلسل چوتھی مدت کیلئے تسلیم نہ کرنے کے تصور کو مسترد کر دیا ہے ۔جمعرات کو واشنگٹن میں یومیہ بریفنگ میں محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے پوچھا گیا کہ جب آپ کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں انتخابی نتائج قابل اعتبار، آزاد یا منصفانہ نہیں تھے ، تو کیا اس کا مطلب ہے کہ امریکہ حسینہ کی مسلسل چوتھی مدت کی حمایت نہیں کر رہا ہے ؟ اس نے فوراً جواب دیا،نہیں، ہرگز نہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں تمام جماعتوں نے حصہ نہیں لیا اور انتخابات کے دوران تشدد بھی ہوا۔ ملر نے کہا کہ بنگلہ دیش کی حکومت کو تشدد کی رپورٹوں کی معتبر اور شفاف تحقیقات کرنی چاہیے ۔ انہوں نے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی تشدد کو مسترد کریں۔دیگر ممالک کی طرح امریکہ نے بھی بنگلہ دیش میں نئی حکومت کے لیے اپنے ردعمل میں ’مبارکباد‘کا لفظ استعمال نہیں کیا جس کی وجہ سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ نے اس حکومت کو خوش آمدید نہیں کہا۔ تاہم امریکی سفیر پیٹر ہاس نے بنگلہ دیش کے نئے وزیر خارجہ محمد حسن محمود سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کا خاکہ پیش کیا۔ ملاقات کے بعد ڈاکٹر محمود نے کہا تھا کہ میں باہمی دلچسپی کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے آنے والے مہینوں میں مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔