امریکہ کا روسی تیل پر عارضی پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ غلط : جرمن چانسلر

   

برلن ۔ 14 مارچ (ایجنسیز) جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے کہا ہے کہ ایران کی جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے سمندر میں پھنسے ہوئے روسی تیل پر عارضی پابندیاں ہٹانا غلط اقدام ہے۔ چانسلر میرس نے دورہ ناروے کے موقع پر نارویجین وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اب کسی بھی وجہ سے پابندیاں نرم کرنا، ہم سمجھتے ہیں کہ غلط ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ روس نے یوکرین میں چار سال قبل شروع ہونے والی جنگ کے خاتمہ کے لیے مذاکرات کرنے کی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی۔ میرس نے کہا کہ اس لیے ہمیں ماسکو پر دباؤ بڑھانا جاری رکھنا چاہیے۔ جمعرات کو امریکہ نے ایک عارضی اجازت نامہ جاری کیا تھا، جس کے تحت ممالک سمندر میں موجود روسی تیل خرید سکتے ہیں تاکہ ایران کی جنگ سے متاثر توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کیا جا سکے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ اقدام 11 اپریل تک نافذ رہے گا اور موجودہ رسد کی عالمی پہنچ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔ میرس نے اعتراف کیا کہ اس فیصلے سے سات صنعتی ممالک کے گروپ G-7 کے دیگر رہنماؤں کو حیرت ہوئی، جنہوں نے اس ہفتہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ روسی تیل اور گیس کی عارضی رسائی پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ چانسلر نے کہا کہ جی سیون کے چھ اراکین نے واضح طور پر کہا کہ یہ صحیح پیغام نہیں ہے۔ آج صبح ہمیں معلوم ہوا کہ امریکہ نے بظاہر اس کے برعکس فیصلہ کیا ہے۔