امریکہ کا سعودیہ کیساتھ دفاعی معاہدہ، شام سے پابندیاں ہٹانے کا بھی اعلان

   

سعودی مملکت سے امید ہے کہ وہ ابراہم معاہدہ میں شامل ہوگی ، سرمایہ کاری فورم سے صدر ٹرمپ کا خطاب

ریاض، 13 مئی (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ریاض میں منگل کو سعودی عرب کی جانب سے 600 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور شام پر سے پابندیاں اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق سرمایہ کاری کے عزم میں “توانائی کی حفاظت، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور عالمی بنیادی ڈھانچے اور اہم معدنیات تک رسائی سمیت مختلف شعبوں پر محیط معاہدے شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان سودوں میں “تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی فروخت کا معاہدہ تھا، تقریباً 142 بلین ڈالر شامل ہے ۔ دفاعی معاہدہ کے ایک حصے کے طور پر امریکہ سعودی عرب کو “ایک درجن سے زیادہ امریکی دفاعی فرموں سے جدید ترین جنگی ساز و سامان اور خدمات فراہم کرے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کی دفاعی اور علاقائی سلامتی میں ایک اہم سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے ، جو امریکی نظام اور تربیت پر مبنی ہے ۔بعد میں ایک سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ شام پر سے پابندیاں ہٹالیں گے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں شام کے خلاف پابندیاں ختم کرنے کا حکم دوں گا تاکہ انہیں ایک موقع دیا جا سکے ۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے دمشق کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے ۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی تعریف کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ مملکت ابراہم معاہدہ میں شامل ہو جائے گی۔ ابراہم معاہدے ، جو ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں امریکہ کی ثالثی میں ہوئے تھے ، اس کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔ غزہ میں اسرائیل کے فوجی حملے کے لیے واشنگٹن کی حمایت کے درمیان اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان معمول کو فروغ دینے کی امریکی کوششیں رک گئیں تھیں، جہاں اکتوبر 2023 سے اب تک 52,900 فلسطینیوں کو ہلاک ہوچکے ہیں۔روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے اس ہفتے کے آخر میں ترکی کا دورہ کریں گے ۔ ٹرمپ منگل سے جمعہ تک مشرق وسطیٰ کے چار روزہ دورے پر ہیں، یہ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کا پہلا بڑا غیر ملکی دورہ ہے ۔ سعودی عرب ان کے دورے کا پہلا پڑاؤ ہے جس میں قطر اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہوں گے ۔