دارالحکومت کراکس میں زور دار دھماکے ‘روس سمیت کئی ممالک نے حملہ کی مذمت کی
واشنگٹن۔3؍جنوری ( ایجنسیز )امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر کے ایک نئی کشیدگی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ وینزویلا کی راجدھانی کراکس میں بڑے ملٹری بیس پر یہ حملہ ہوا ہے۔ ہفتہ کی علی الصبح وینزویلا کی راجدھانی کراکس میں کم از کم 7 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ شہر میں دھوئیں کے غبار اٹھتے دیکھے گئے جس کے بعد علاقہ میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ میڈیانے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے وزیر دفاع کے گھر اور ملٹری بیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ میڈیا کی ایک ٹیم نے ہفتہ کی شب وینزویلا کی راجدھانی کراکس میں کئی دھماکے ہوتے ہوئے دیکھے۔ پہلا دھماکہ قومی وقت کے مطابق شب تقریباً 1.50 بجے ہوا۔ میڈیا نمائندے اوسماری ہرنانڈیز نے کہا کہ ایک دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ میری کھڑکی تک ہل گئی۔ دھماکوں کے بعد کراکس کے کئی علاقوں میں بجلی چلی گئی۔ علاقے میں کئی طیارے بھی اڑتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ وینزویلا حکومت نے اس حادثہ پر فوراً کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ دھماکوں کی آواز سنتے ہی شہر کے کئی علاقوں میں لوگ اپنے گھروں سے باہر سڑکوں پر آ گئے۔ قابل ذکر ہے کہ اس وقت امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی متنبہ کر چکے تھے کہ وینزویلا کے خلاف زمینی حملے بھی ہو سکتے ہیں تاکہ اس قدم سے مادورو کو اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ میں ڈالا جا سکے اور اس کیلئے انھوں نے سخت پابندیاں بھی لگائی ہیں۔ ہفتہ کے روز وینزویلا پر ہوئے حملہ سے قبل امریکی صدر نے کئی بار متنبہ کیا کہ امریکہ کسی بھی حال میں وینزویلا میں مبینہ ڈرگ اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف نئی کارروائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے سی آئی اے کو وینزویلا کے اندر کام کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ وہاں سے ہونے والی ڈرگ اسمگلنگ اور مہاجرین کی آمد و رفت پر روک لگائی جا سکے۔ حالانکہ وینزویلا کے صدر مادورو نے کسی بھی طرح کے جرائم سے متعلق سرگرمیوں کو پوری طرح سے خارج کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ انھیں اقتدار سے ہٹا کر وینزویلا کے بڑے تیل ذخیرہ اور معدنیاتی وسائل تک رسائی چاہتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ تازہ حملہ سے قبل ہی امریکی فوج نے کیریبیائی سمندر اور مشرقی بحرالکاہل میں کئی کشتیوں پر بھی حملے کیے جن پر ڈرگ اسمگلنگ کا الزام تھا۔ امریکی فوج کی جانکاری کے مطابق اس سمندری مہم میں اب تک کم از کم 30 حملوں میں 107 لوگ مارے جا چکے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملوں اور صدر مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری کی بھی تصدیق کردی۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ٹرمپ نے وینزویلا پر حملوں کے حوالے سے کہا کہ وینیزویلا اور اس کی قیادت کیخلاف آپریشن کیا گیا ہے۔دوسری جانب کولمبیا اور کیوبا نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔اسی طرح روس نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
