امریکہ اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کی خصوصی تقریب
واشنگٹن : پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی امریکی ہم منصب بلنکن کے ساتھ مختلف اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی۔ بلنکن نے پاکستانی وزیر کو ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے اور قرضوں میں نرمی کے لیے چین سے بات چیت کا مشورہ دیا۔امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر میں 26 ستمبر کے روز ایک خصوصی تقریب کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی۔انٹونی بلنکن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ،ہماری آج کی گفتگو میں ہم نے ہندوستان کے ساتھ ذمہ دارانہ تعلقات کو منظم کرنے کی اہمیت کے بارے میں بات کی۔ اور میں نے اپنے ساتھی پر زور دیا کہ وہ چین سے قرضوں میں نرمی اور قرضوں کی تنظیم نو کے بعض اہم امور پر بات کریں تاکہ پاکستان سیلاب سے پیدا شدہ حالات کے اثرات سے جلد از جلد نکل سکے۔‘‘کشمیر کے تنازعے اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ متنازعہ خطے جموں کشمیر کے ہندوستان کے زیر انتظام حصے کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کے ہندوستانی حکومت کی جانب سے سن 2019 میں ختم کیے جانے کے بعد سے دوطرفہ تعلقات مزید خراب ہو چکے ہیں۔ہندوستان کے اس اقدام کے بعد پاکستان نے نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات کو کم کرتے ہوئے اسلام آباد میں تعینات ہندوستانی سفیر کو واپس بھیج دیا تھا اور تب سے دونوں حریف ہمسایہ ممالک کے مابین تجارتی تعلقات بڑی حد تک منجمد ہو کر رہ گئے ہیں۔انٹونی بلنکن نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے جمہوری ہونے کی حیثیت سے مذہبی آزادی، عقیدے اور اظہار رائے کی آزادی جیسی بنیادی قدروں کا احترام کرنے کے وعدے پورا کیے جانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نہ صرف لچکدار ہیں، بلکہ وہ وقت کی کسوٹی پر بھی پورے اترے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ہم نے پوری تاریخ میں ثابت کیا ہے کہ جب ہم مل کر کام کرتے ہیں، تو ہم عظیم مقاصد حاصل کر لیتے ہیں۔ اور میرے خیال میں جب ہم مل کر کام نہیں کرتے، تب ہم بھٹک جاتے ہیں۔ پھر ہم لڑکھڑا جاتے ہیں اور پھر معاملات غلط ہو جاتے ہیں۔‘‘بلاول بھٹو زرداری نے خطے میں امن، سلامتی اور اقتصادی خوشحالی کے فروغ کے لیے پاکستان امریکہ تعلقات کی تاریخی اور بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی زور دیا اور پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔