واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے یورپی یونین اور ناٹو اور برطانیہ اور ترکی کے اعلیٰ سفارت کاروں کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ‘‘وزیر خارجہ اینٹونی جے ۔ بلنکن نے یورپی یونین کے خارجی امور اور سلامتی پالیسی کے اعلی نمائندے اور یورپی کمیشن کے نائب صدر جوزف بوریل، ناٹو کے سیکرٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ، ترکی کے وزیر خارجہ میولوت کاواسوگلو اور برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک رااب سے افغانستان کے بارے میں تبادلہ خیال کیا، جن میں موجودہ صورتحال اور اپنے شہریوں کو محفوظ اور کمزور افغانوں کی مدد کرنے کی ہماری کوششیں شامل ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بلنکن نے افغانستان میں یورپی یونین، ناٹو، ترکی اور برطانیہ کی کوششوں کی تعریف کی۔واضح ہے کہ اتوار کو طالبان نے کابل میں داخل ہو کر افغانستان پر مکمل قبضہ کر لیا۔ افغان صدر اشرف غنی نے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیا۔ مسٹر غنی نے کہا کہ انہوں نے تشدد روکنے کے لئے یہ فیصلہ لیا کیونکہ دہشت گرد دارالحکومت پر حملہ کرنے کے لیے تیار تھے ۔ ان واقعات کے بعد بیشتر ممالک نے وسطی ایشیائی ملک میں اپنے سفارتی مشنوں کو کم یا خالی کر دیا ہے ۔