سلیمانی کی موت پر ٹرمپ، پومپیو اور داعش کو خوشی۔ خطہ میں امید پیدا کرنے کی ضرورت : ظریف
نئی دہلی؍تہران ، 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر خارجہ ایران جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ تمام چیزوں کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے، اِس خطہ کے تناظر میں نہیں۔ قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے لاپرواہی اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔ سلیمانی کی ہلاکت پر بے شمار شہروں میں احتجاج ہوئے۔ ظریف نے یہاں رائزینا ڈائیلاگ 2020ء کے موقع پر کہا کہ سلیمانی آئی ایس آئی ایس کے خلاف واحد سب سے مؤثر قوت تھے، لہٰذا امریکہ ایسے جشن منا رہا ہے جیسا کہ وہ سلیمانی کو پسند نہیں کرتا تھا۔ دراصل امریکہ جنرل سلیمانی کو پسند نہیں کرتا تھا، حالانکہ وہ داعش کے خلاف واحد سب سے مؤثر طاقت تھے۔ اگر آپ کو مجھ پر یقین نہ ہو تو اُن کی خوشی دیکھئے۔ سلیمانی کی موت پر کون جشن منارہے ہیں، کوئی عام لوگ نہیں، بلکہ ٹرمپ، پومپیو اور داعش۔ عراق میں دو ملٹری اڈوں پر ایران کے فضائی حملوں کے تعلق سے ظریف نے دہرایا کہ تہران نے اپنے دفاع میں جواب دیا اور واشنگٹن کے دعوؤں کو مسترد کردیا کہ سلیمانی امریکی سفارت خانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ امریکہ بین الاقوامی قانون سے بچنا چاہتا ہے اور اسی لئے وہ بین الاقوامی قواعد پر مبنی سسٹم کی بات کرتا ہے۔ ظریف نے کہا کہ 10 ملین لوگ نہ صرف تہران کی سڑکوں پر نکل آئے بلکہ ایران، عراق، ہندوستان اور روس کے مختلف شہروں میں اسی طرح کا نظارہ دیکھنے میں آیا جو سلیمانی کی یاد میں جمع ہوئے۔ لہٰذا، امریکہ کو ہمارے خطہ کے تعلق سے نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ غلطی کررہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے خطہ میں امید و امن پیدا کرنے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں خطہ میں مایوسی کو ختم کرنے کے جتن درکار ہیں کیونکہ خطہ میں ساری نسل امید چھوڑ رہی ہے کیونکہ انھیں غیریقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ ہمیں خطہ میں امن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
