امریکہ کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے: روس

,

   

Ferty9 Clinic

دس امریکی سفارت کاروں کو ملک بدر اور کئی حکام پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ

ماسکو۔ روس نے امریکہ کی طرف سے نئی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے دس سفارتکاروں کو ملک بدر کر دے گا اور واشنگٹن کے خلاف دیگر جوابی اقدامات بھی کرے گا۔ میڈیا کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو امریکہ کے 8 عہدیداروں کو اپنی اس فہرست میں شامل کرے گا جن پر اس نے پابندی عائد کر رکھی ہے اور ان امریکی تنظیموں کو بند کر دے گا جو روس میں موجود ہیں اور ان کے بقول روس کی سیاست میں مداخلت کر رہی ہیں۔روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ کریملن نے تجویز کیا ہے کہ امریکی سفیر جان سولیون بھی اپنے روسی ہم منصب کی طرح مشاورت کے لیے اپنے ملک واپس چلے جائیں۔ روس امریکی سفارتخانے کے لیے اپنے عملے میں روسی شہریوں یا کسی تیسرے ملک سے عملہ رکھنے کی اجازت نہ دینے، امریکی سفارت کاروں کے روس میں سفارتخانے میں کم مدت کے دوروں کو محدود کرنے اور ملک کے اندر سفر کے لیے شرائط کو سخت بنانے کے لیے بھی اقدامات کرے گا۔بائیڈن انتظامیہ نے امریکہ کے 2020 کے صدارتی انتخاب میں مداخلت کرنے اور امریکہ کے وفاقی اداروں پر حالیہ سائبر حملوں کو بنیاد بناتے ہوئے روس پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔روس ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کر چکا ہے۔ امریکہ نے روس کے دس سفارتکاروں کو نکالنے کا حکم دیا ہے، روس کی کئی کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، اور روس کے قرضہ لینے کی اہلیت پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس روسی معیشت کو کمزور کرنے کی طاقت موجود ہے، اور باوجود اس کے کہ روس دنیا بھر میں امریکی مفادات کو کئی طریقوں سے زک پہنچا سکتا ہے،ماسکو کے پاس اس نوعیت کا جواب دینے کی اہلیت نہیں۔ روسی وزیرخارجہ نے امریکی اقدام کو غیر دوستانہ اور بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ روس بھی اپنے ملک کے اندر امریکی کاروباروں کے مفادات کے لیے ’تکلیف دہ‘ اقدامات کر سکتا ہے لیکن وہ فوری طور پر ایسا نہیں کرے گا اور ان اقدامات کو مستقبل کے لیے بچا کر رکھے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے مزید دباو بڑھایا تو روس امریکہ سے کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنے سفارتخانے اور قونصل خانوں میں سفارتی عملے کی تعداد ساڑھے چار سو سے کم کر کے تین سو تک لے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ روس اور امریکہ نے ایک دوسرے کے ملک میں ساڑھے چار سو سفارتکار تعینات کر رکھے ہیں تاہم روس کے عملے میں اقوام متحدہ کے عملے کے ایک سو پچاس افراد بھی شامل ہیں جو وزیرخارجہ لارووف کے بقول، روس کے عملے میں شمار نہیں ہونے چا ہیے۔