امریکہ کیساتھ تجارتی معاہدہ میں ہندوستان کی دلچسپی برقرار

   

Ferty9 Clinic

امریکی وزیر تجارت کا بیان درست نہیں، مودی اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات اچھے ہیں :وزارت خارجہ

نئی دہلی، 9 جنوری (یو این آئی) امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے تعلق سے جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہندوستان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کئی مرتبہ تجارتی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور اس سلسلے میں امریکی وزیرِ تجارت کا میڈیا میں آیا بیان درست نہیں ہے ۔ ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی معاہدے میں اس کی دلچسپی اب بھی برقرار ہے ۔ہندوستان نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں اور دونوں رہنما آٹھ مرتبہ ٹیلی فون پر بات چیت کر چکے ہیں۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے اور اس بارے میں امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لیوٹنک کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ”ہم نے وہ تبصرے دیکھے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ 13 فروری سے ہی دو طرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کیلئے پرعزم رہے ہیں۔ اس کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی تجارتی معاہدے پر کئی دور کی بات چیت ہو چکی ہے ۔ کئی مواقع پر ہم معاہدے کے بہت قریب بھی پہنچے ہیں۔ ان مذاکرات کے بارے میں کی گئی تشریحات اور جن تبصروں کی رپورٹنگ کی گئی ہے ، وہ درست نہیں ہیں۔”انہوں نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تجارتی معاہدے میں ہندوستان کی دلچسپی اب بھی برقرار ہے اور اسے امید ہے کہ یہ جلد کسی نتیجے تک پہنچے گا۔
آج صبح روپے کا آغاز معمولی بہتری کے ساتھ ہوا اور یہ ڈالر کے مقابلے 89.88 روپے پر کھلا، لیکن یہ استحکام برقرار نہ رہ سکا اور گراوٹ کا عمل شروع ہو گیا۔ کاروبار کے دوران روپیہ ایک موقع پر 90.25 کی نچلی ترین سطح تک گر گیا تھا، تاہم دن کے اختتام پر معمولی سنبھل کر یہ 90.18 روپے فی ڈالر پر ٹھہرا۔