نیویارک ۔ 3 اپریل (ایجنسیز) انگریزی اخبار Politico نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی فوج کیلئے ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے بقیہ ذخیرے کو تباہ کرنا مشکل ہو گا، کیونکہ یہ میزائل انتہائی محفوظ مقامات پر رکھے گئے ہیں۔اخبار کے مطابق پینٹگان کے پاس اب ایران میں حملوں کیلئے تزویراتی طور پر اہم اہداف کی کمی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ایک سابق امریکی اہل کار نے اخبار کو بتایا کہ “مسئلہ یہ ہے کہ ایسی فوجی تنصیبات بہت کم ہیں جن تک زمینی حملے کے بغیر رسائی ممکن ہو”… اور ایران کے پاس موجود بیلسٹک میزائلوں کے بقیہ ذخائر کو “نشانہ بنانا مشکل ہے کیونکہ وہ غالباً مضبوط بنکروں میں موجود ہیں۔پولیٹیکو کو ایک اور ذریعے نے تصدیق کی کہ ایران میں اہداف کے خلاف امریکی حملوں کی اہمیت بتدریج کم ہو رہی ہے اور اشارہ دیا کہ موجودہ صورت حال صدر ڈونالڈ ٹرمپ کیلئے مشکل ہے۔اخبار کے ذرائع کے مطابق، جو کچھ ہو رہا ہے وہ “ایران کو اتنا اثر و رسوخ دے سکتا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام، مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی کی صورتحال یا آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے حوالے سے مذاکرات سے انکار کردے۔