واشنگٹن ۔ 19 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے وقت جب کشمیر کو لے کر ہند و پاک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور ساتھ ہی ساتھ افغانتان میں قیام امن کے لئے جاری بات چیت کے تناظر میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی پالیسی ماہر نے امریکہ کو انتباہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ فی الحال کوئی حکمت شراکت داری کے بارے میں نہ سوچے ۔ کونسل آن فارین ریلشنز کے صدر رچرڈ ہاس نے گزشتہ ہفتہ اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا کہ امریکہ کیلئے یہ بات غیر دانشمندانہ ہوگی کہ وہ اپنی حکمت عملی شراکت داری کیلئے پاکستان کی جانب دیکھے ۔ یاد رہے کہ اپنے حریف پڑوسی ہندوستان کے ساتھ مقابلہ آرائی کرنے اور اپنی سیکوریٹی کے لئے افغانستتان میں مستحکم حکومت کا قیام پاکستان کی اولین ترجیح ہے ۔ مسٹر ہاس نے لکھا ہے کہ پاکستان کو چلانے والی طاقتیں آج بھی وہاں کی فوج اور انٹلیجنس ہیں۔ ہاس کے مطابق ایک طرف پاکستان کو اپنا حکمت عملی شراکت دار بنانا اور دوسری طرف ہندوستان کو یکا و تنہا کردینا بھی امریکہ کیلئے نقصان دہ ہوگا۔
