تہران ۔4جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) ایرانی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل رمضان شریف نے کہا کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر امریکہ کی خوشی جلد سوگ میں تبدیل کر دیں گے۔ سلیمانی کے قتل کے بعد عراق سے ملحقہ سرحد پر ایرانی لڑاکا طیاروں کی پروازیں جاری ہیں، امریکہ بھی مشرقِ وسطیٰ میں مزید 3 ہزار فوجی بھیجنے کی تیاریاں کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل نے شام اور لبنان سے ملحقہ اپنی سرحد پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر ماجد تخت روانچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتریس اور سلامتی کونسل کوخط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کا قتل اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے خط میں کہا کہ امریکہ نے ایسا نیا باب کھول دیا ہے جو ایران سے جنگ کے مترادف ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے یرانی سرکاری ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ امریکہ نے بہت بڑی غلطی کی ہے، عراقی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔انھوںنے کہا کہ ایران کسی بھی وقت اور انداز میں جواب دینے کا حق رکھتا ہے، طاقت اور جرائم کے ذریعے پالیسیوں پر پیش رفت دنیا کیلئے ناقابلِ قبول ہے۔واقعے پر ایران نے سوئس سفیر کو ایک ہی دن دو مرتبہ وزارتِ خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
