l طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ بھی استعمال ہوگا lبہ آسانی شکست دینے ٹرمپ پُرعزمlامریکی فوج کا بھی شدید نقصان ہوگا : امریکی میڈیا
واشنگٹن ۔ 24 فبروری (ایجنسیز) برطانوی اخبار فینانشیل ٹائمز نے اسرائیلی انٹیلی جنس معلومات کے حوالے سے بتایا ہے کہ موجودہ امریکی فوجی صلاحیتیں ایران کے خلاف صرف چار سے پانچ دنوں کی شدید بمباری کیلئے کافی ہیں۔اخبار نے واضح کیا کہ اگر حملوں کی شدت کم رکھی جائے تو امریکی فوجی صلاحیتیں ایک ہفتے تک برقرار رہ سکتی ہیں اور اس میں مشرق وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز “یو ایس ایس جیرالد آر فورڈ” کی دوبارہ تعیناتی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔اخبار نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ اس تصادم کے نتیجے میں امریکی فوج کا جانی نقصان ہو سکتا ہے، جو صدر ٹرمپ کی حمایت کرنے والی بنیاد “امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں”(MAGA) کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 17 فروری کو سلطنت عمان کی ثالثی میں جنیوا میں منعقد ہوا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق، فریقین نے متعدد امور پر مفاہمت حاصل کر لی ہے اور ان معاہدوں کو ایٹمی پروگرام سے متعلق مستقبل کے مجوزہ معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ مشاورت کئی پہلوؤں سے بہتر رہی ہے، لیکن تہران ابھی ان اصولی مواقف کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے جو وائٹ ہاؤس کی جانب سے طے کیے گئے ہیں۔اس سے قبل اسرائیل اور امریکہ نے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ ایران نہ صرف اپنے ایٹمی پروگرام کی ترقی سے دست بردار ہو، بلکہ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور مشرق وسطیٰ میں ایران نواز قوتوں کی حمایت بھی ختم کرے۔توقع ہے کہ ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات کا نیا دور 26 فروری کو جنیوا میں منعقد ہوگا۔دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان رپورٹوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین نے ایران کے خلاف کسی بڑی کارروائی کے خطرات سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تنازعہ کی صورت میں واشنگٹن تہران کو آسانی سے شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پیر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنرل ڈین کین ہم سب کی طرح جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر فوجی سطح پر ایران کے خلاف کسی اقدام کا فیصلہ کر لیا گیا، تو ان کی نظر میں یہ ایک ایسی جنگ ہے جسے آسانی سے جیتا جا سکتا ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ ایران کے بارے میں فیصلہ وہ خود کرتے ہیں، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر نہ پہنچا تو اسے ایک انتہائی برے دن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، اور ان کے مطابق اس کا متبادل بہت برا ہے۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دو با خبر ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اعلیٰ حکام کو مطلع کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم میں سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جن میں سب سے نمایاں طویل مدتی تنازعہ میں الجھنے کا امکان اور امریکی جانی نقصان ہے۔ تاہم صدر نے اس کی تردید کی ہے۔ایک امریکی عہدے دار نے بتایا کہ ٹرمپ نے تہران کے حوالے سے دستیاب آپشنز کا جائزہ لینے کیلئے مشیروں کا ایک محدود حلقہ تشکیل دیا ہے، بالکل اسی طریقہ کار کی طرح جو انہوں نے پہلے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی پر غور کرتے وقت اپنایا تھا۔ اس کا مقصد ایسے متبادل تیار کرنا ہے جو انہیں اثر و رسوخ بڑھانے اور خطرات کم کرنے کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے نقل و حرکت کی گنجائش فراہم کریں۔دوسری جانب امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو ایرانی معاملے سے متعلق نجی ملاقاتوں میں مدعو نہیں کیا گیا اور نہ انہوں نے جنوری کے آغاز میں بحران شروع ہونے کے بعد سے صدر سے بات کی ہے۔