مختلف ممالک سے ٹیرف میں کمی کے عوض چین کو معاشی میدان میں پس پشت ڈالنے کا وعدہ لیا جارہا ہے: امریکی میڈیا
واشنگٹن : امریکی حکومت ٹیرف سے متعلق مذاکرات کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ انہیں چین کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو محدود کرنے پر مجبور کیا جائے۔امریکی اخبار وال ا سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد مختلف ممالک سے یقینی دہانی لینا ہے کہ وہ ٹیرف میں کمی کے بدلے میں چین کو معاشی میدان میں تنہا کرنے پر امریکہ کا ساتھ دیں گے۔امریکی حکام 70 سے زیادہ ممالک کے ساتھ ہونے والے ٹیرف مذاکرات کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان ممالک سے کہا جائے گا کہ وہ چینی مصنوعات کو اپنی سرحدوں سے گزرنے کی اجازت نہ دیں اور چین کے سستے صنعتی سامان کو اپنی مارکیٹ کا حصہ نہ بننے دیں۔ان اقدامات کا مقصد چین کی پہلے سے ہی بدحال معیشت کو نقصان پہنچانا ہے اور صدرشی جن پنگ کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کرنا ہے۔ٹیرف سے متعلق مذاکرات کے دورن امریکہ کے ہر ملک سے مطالبات مختلف ہوں گے اور ان کا انحصار اس ملک کی مارکیٹ میں چینی مصنوعات کی موجودگی اور چین کے ساتھ معاشی تعلقات پر ہوگا۔صدر ٹرمپ نے بھی منگل کو ایک پروگرام میں اس حکمت عملی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چاہیں گے کہ دیگر ممالک امریکہ اور چین کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کریں۔اس حکمت عملی کا مؤخذ وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو سمجھا رہا ہے جنہوں نے تجارتی مذاکرات میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے 6 اپریل کو فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کے کلب مار۔اے۔لاگو میں ہونے والے اجلاس میں اپنا یہ خیال پیش کیا تھا جس ک مقصد چینی معیشت کو تنہا کرنا، چین کو امریکی معیشت سے الگ تھلگ کرنا اور ممکنہ طور پر امریکی سٹاک ایکسچینج سے چینی سٹاکس کو ہٹانا ہے۔صدر ٹرمپ کے ٹیرف کے جواب میں چین نے امریکی اشیا پر 125 فیصد برآمدی ڈیوٹی عائد کر دی ہے جس کے بعد دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی تھی۔تاہم گزشتہ امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے کئی الیکٹرانک آلات کو ٹیرف میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا تھا جس سے اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، میموری چپس اور دوسرے آلات اس ٹیرف سے مستثنیٰ ہیں۔