امریکہ کی پیرس عالمی ماحولیاتی معاہدہ سے علیحدگی

   

واشنگٹن : امریکہ تحفظ ماحول سے متعلق 2015ء کے پیرس معاہدہ سے باضابطہ طور پر الگ ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ضرر رساں گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کے مقصد کے لیے بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدے سے الگ ہونے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ امریکہ چین کے بعد ضرر رساں گیسوں کا اخراج کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گزشتہ برس اقوام متحدہ کو اس معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے کا نوٹس دیا تھا، جسے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ معاہدے سے باضابطہ الگ ہونے کے لیے نوٹس دینے کے بعد کم از کم ایک برس تک لازمی طور پر انتظار کرنا پڑتا ہے، یہ مدت چہارشنبہ کے روز پوری ہوئی۔ اگر جو بائیڈن صدارتی انتخابات جیتتے ہیں تو امریکہ اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہو سکتا۔