امریکہ کی ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے پر عارضی چھوٹ

   

واشنگٹن/نئی دہلی مارچ (یو این آئی) امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے خاص طور پر ہندوستان کے لیے اپنی پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے اسے روس سے 30 دنوں کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی اجازت دی ہے ، حالانکہ یہ چھوٹ صرف سمندر میں تیل بردار بحری جہازوں میں پہلے سے لدے ہوئے تیل کے لیے ہے ۔ امریکہ نے روس سے خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات خریدنے والے کسی بھی ملک پر یکطرفہ پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس خام تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو یوکرین کے خلاف اپنی جنگ کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر رہا ہے ۔ یہاں تک کہ اس نے اگست 2025 میں ہندوستان پر 25 فیصد تعزیری درآمداتی ڈیوٹی عائد کی تھی تاکہ اسے روس سے خام تیل کی خریداری جاری رکھنے پر مجبور کیا جاسکے ، جو اس سال فروری کے پہلے ہفتے میں اٹھا لیا گیا تھا۔ اس وقت امریکہ نے کہا تھا کہ ہندوستان نے روس سے تیل خریدنا بند کر دیا ہے ، حالانکہ ہندوستانی حکومت نے اس دعوے کو کبھی قبول نہیں کیا اور یہ برقرار رکھا کہ ہندوستان اپنے مفادات میں تیل خریدتا رہے گا۔ امریکہ نے جمعرات کو مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان ہندوستان کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد عالمی توانائی کی سپلائی میں خلل ڈالنے کی ایران کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے ۔ امریکی ٹریژری سکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ محکمہ خزانہ ہندوستانی آئل ریفائنریوں کو روس سے خام تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی چھوٹ (4 اپریل تک) دے رہا ہے تاکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے لکھا، “کچھ دنوں کے لیے احتیاط سے سمجھی جانے والی اس استثنیٰ سے روسی حکومت کو کوئی خاص مالی فائدہ نہیں ملے گا کیونکہ یہ صرف سمندر میں پھنسے ہوئے تیل کی خریداری کے لیے ہے (تیل بردار جہازوں پر لدا ہوا)۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحر ہند میں اس وقت امریکی سبسڈی والے خام تیل کے 20 ملین بیرل موجود ہیں، جوہندوستان کی چار دنوں کی اوسط خریداری کے برابر ہے ۔ ہندوستان روزانہ اوسطاً 50 لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے ۔

روس سے تیل کی خریدی ، امریکہ کی ہندوستان کو رعایت

واشنگٹن، 6 مارچ (یواین آئی) امریکہ نے ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے کے لیے عائد پابندیوں میں عارضی طور پر نرمی کر دی ہے ۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی کی ہے تاکہ ہندستان سمندر میں پھنسے روسی تیل کو خرید سکے ۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ 30 دن کی چھوٹ عالمی منڈی میں تیل کی روانی کو برقرار رکھے گی اور ایران کی جانب سے عالمی توانائی کو یرغمال بنانے کی کوشش سے پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کیا جاسکے گا۔مسٹر بیسنٹ نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ یہ اقدام ایک دانستہ، قلیل مدتی اقدام ہے جو روسی حکومت کو کوئی خاص مالی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ اس میں صرف وہی تیل شامل ہے جو پہلے سے سمندر میں پھنسا ہوا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد روسی تیل پر پابندی عائد کردی، جس سے خریداروں کو متبادل راستے تلاش کرنے پڑتے تھے ۔ ہندوستان روسی توانائی کا ایک بڑا خریدار ہے اور امریکہ نے ہندوستان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ حملے کے لیے فنڈز کا بہاؤ کم کرنے کی کوشش میں ان کا (روس) تیل خریدنا بند کردے ۔