امریکہ کے محکمہ صحت میں برطرفیاں شروع

   

واشنگٹن، 16 جولائی (یو این آئی) امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے محکمہ خارجہ کے بعد صحت کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر چھنٹیاں شروع کردی گئیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل ہیلتھ ایجنسی میں ہزاروں ملازمین کو نکالنے کے منصوبے کو حتمی شکل دیدی گئی ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کو امریکہ میں مقیم 1,350 سے زائد ملازمین کو برطرف کرنا شروع کر دیا تھا، یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنی سفارتی کور کو از سر نو تشکیل دینے کی ایک غیر معمولی کوشش کا حصہ ہے ۔یہ چھنٹیاں، جو 1,107 سول سروس اور 246 فارن سروس افسران کو متاثر کرتی ہیں، ایسے وقت میں کی گئی جب واشنگٹن عالمی سطح پر کئی بحرانوں سے نبرد آزما ہے جیسا کہ روس یوکرین جنگ، غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری تنازعہ اور اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں تناؤ کی کیفیت۔رپورٹس کے مطابق برطرف کیے جانے والے ملازمین کو بھیجی گئی پانچ صفحات پر مشتمل سیپریشن چیک لسٹ میں ملازمین کو آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ جمعہ کو شام 5 بجے ای ڈی ٹی تک عمارت اور اپنی ای میلز تک رسائی کھو دیں گے ۔ اس میں ملازمین سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی برطرفی سے قبل کئی اقدامات مکمل کریں۔

حزب اللہ کے مالی ادارے القرض الحسن پرپابندی
بیروت: 16جولائی ( ایجنسیز ) لبنان کے مرکزی بینک نے مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے مالی ادارے القرض الحسن پرپابندی لگا دی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق لبنان کے تمام بینکوں کو القرض الحسن سے معاملات سے روک دیا گیا ہے۔یورپی کمیشن پہلے ہی لبنان کو منی لانڈرنگ کے خطرے والے ممالک میں شامل کرچکا ہے جبکہ فیٹف نے بھی لبنان کو ’گرے لسٹ‘ میں شامل کیا ہوا ہے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق حزب اللہ کے مالی ادارہ القرض الحسن 1983 میں قائم ہوا جو خود کو فلاحی تنظیم قرار دیتا ہے۔ القرض الحسن پر امریکی پابندیاں 2007 سے عائد ہیں۔یاد رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز لبنان میں حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو اور کیمپس پر فضائی حملے کیے تھے جس میں 12 افراد جاں بحق ہوئے جس میں 5 حزب اللہ جنگجو شامل ہیں۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ سال القرض الحسن کی کئی شاخوں کو بمباری کرکے تباہ کردیا تھا۔
۔