بات چیت میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس چیف مذاکرات کار ہوںگے: ایران
ایران نے اسرائیل میں پاور پلانٹ کے قریب حملہ کیا ۔
نئی دہلی/ تہران 25 مارچ (یواین آئی) پاکستان نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی باضابطہ پیشکش کی ہے ۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا، “امریکہ اور ایران کے اتفاق رائے سے مشروط، پاکستان بامعنی اور فیصلہ کن مذاکرات کو آسان بنانے اور جاری تنازع کے جامع حل کے لیے میزبان بننے کے لیے تیار ہے اور اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے “۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے مفاد میں مغربی ایشیا میں تنازعات کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کا خیرمقدم اور مکمل حمایت کرتا ہے ۔ مسٹر شریف کی یہ تجویز ان کے منگل کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت اور پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ایک دن قبل ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے ۔ایران نے مبینہ طور پر امریکہ سے کہا ہے کہ وہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بجائے نائب صدر جے ڈی وینس سے بات چیت کرنا پسند کرتا ہے ۔سی این این نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں یہ معلومات سامنے آئی ہیں۔ سی این این کے مطابق، ایران نے امریکہ-اسرائیلی فوجی آپریشن کے آغاز سے قبل ہونے والے سابقہ مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے مسٹر وٹ کوف اور مسٹر کشنر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ وہیں رپورٹس کے مطابق نائب صدر وینس کو ایران ایک ایسے سیاست دان کے طور پر دیکھتا ہے جو جنگ بندی کے مفاد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں میں بہت مثبت بات چیت ہوئی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پینٹاگون کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے پانچ دنوں کے لیے ملتوی کردے ۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے کسی بھی قسم کی بات چیت کی تردید کی اور کہا کہ اسے صرف ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں، جن میں واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔
بات چیت میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس چیف مذاکرات کار ہوںگے: ایران
واشنگٹن ، 25 مارچ (یو این آئی) ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں اب کوئی قیادت باقی نہیں رہی ہے اور امریکہ، ایران میں شاندار کامیابیاں حاصل کر رہا ہے ۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران رضامند ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے ، اب ہم صحیح لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران سے بات کر رہے ہیں، ایران میں شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، ہم نے ان کی نیوی، ائیر فورس تباہ کر دی ہے ، ان کی قیادت ختم کردی ہے ، یہ رجیم چینج ہے ، انہوں نے ہمیں ایک تحفہ بھیجا جو کل مل گیا، ایران نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا ہے ، تحفہ بہت قیمتی اور آبنائے ہُرمُز سے متعلق تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں اب نئی قیادت ہے دیکھتے ہیں کہ وہ کیسا کام کرتے ہیں، ایران کی نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے ۔ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے بات چیت میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر ایران کے معاملے میں بہت بہترین ساتھی ثابت ہوئے ہیں ۔