تہران : مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں پر بار بار ہونے والے حملوں سے یہ خدشہ ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ تنازعہ کی طرف جا سکتا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اسرائیل۔حماس لڑائی کو علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے پھر بھی ایسا ہونا ممکن ہے۔امریکہ نے راکٹ اور ڈرون حملوں میں اضافے کا الزام – 17 اکتوبر سے عراق میں کم از کم 14 اور شام میں نو ۔ ایران کی حمایت یافتہ افواج پر عائد کیا ہے اور گذشتہ ہفتے شام میں ان مقامات پر حملے کیے جن کا تعلق پینٹاگون کے مطابق تہران سے ہے۔گولہ باری کی زبردست طاقت واشنگٹن کے تصرف میں ہے لیکن حملوں کے خلاف اس کا فوجی ردِعمل اب تک ان حملوں تک محدود رہا ہے ۔ جن کے بارے میں پینٹاگون نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ان حملوں سے جانی نقصان نہیں ہوا ہے ۔ اور یہ ایک وسیع تر تنازعہ کو واقع ہونے سے روکنے کی ممکنہ کوشش ہو سکتی ہے۔ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے پیر کو کہا، “ہم ایران کے خطرے کے نیٹ ورک کے تمام عناصر کے بارے میں فکر مند ہیں جو اپنے حملوں میں اس طرح اضافہ کر رہے ہیں جس سے غلط حساب کتاب کا خطرہ ہو یا خطے میں جنگ چھڑ جائے۔”اہلکار نے کہا۔ “علاقائی جنگ میں ہر کوئی ہارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم شراکت داروں کے ذریعے، اتحادیوں کے ساتھ، فون لائنوں پر کام کر رہے ہیں اور علاقائی تنازعہات کو روکنے کی خواہش کو واضح کرنے کیلئے کوششوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔
“واشنگٹن نے کہا ہے کہ اس کے فوجیوں پر حملے اسرائیل اور حماس کے موجودہ تنازعہ سے الگ ہیں جو اس ماہ کے آغاز میں شروع ہوا تھا جب عسکریت پسند گروپ نے غزہ سے ایک غیر متوقع سرحد پار حملہ کیا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے لیکن ایران نے پیر کو کہا کہ امریکی افواج پر حملے “غلط امریکی پالیسیوں” بشمول اسرائیل کی حمایت کا نتیجہ ہیں جس کی جوابی اور انتقامی بمباری میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 8,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حماس گروپ جو کسی زمانے میں عراق اور شام دونوں ممالک کے اہم علاقوں پر قابض تھا، اس کی بحالی کو روکنے کی کوششوں کی غرض سے عراق میں تقریباً 2,500 اور شام میں تقریباً 900 امریکی فوجی موجود ہیں۔ان فورسز پر حالیہ حملوں سے ہونے والا نقصان اب تک محدود ہے ۔ 21 امریکی اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں اور ایک ٹھیکیدار خوف و دہشت سے دل کا دورہ پڑنے سے مر گیا جو غلط الارم بجنے کی وجہ سے ایک جگہ پناہ لیے ہوئے تھا لیکن حالات کے مزید خراب ہونے کے اچھے خاصے امکانات ہیں۔