امریکی الیکشن سے قبل کورونا ویکسین کا امکان نہیں

   

واشنگٹن: کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری میں مصروف عمل امریکی دوا ساز کمپنی ’فائزر‘ نے اعلان کیا ہیکہ وہ نومبر کے اختتام تک ویکسین کے استعمال کی ہنگامی منظوری لینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ کمپنی کے اس اعلان کے بعد ٹرمپ کی یہ پیش گوئی پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی جس میں انہوں نے الیکشن سے قبل ویکسین آنے کا عندیہ دیا تھا۔ویکسین بنانے کی دوڑ میں آگے دو اور کمپنیوں نے ویکسین پر کام عارضی طور پر روک رکھا ہے جبکہ چوتھی کمپنی کے نتائج اس سال کے آخر تک متوقع ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات جن میں ’’آپریشن وارپ اسپیڈ‘‘ بھی ہیں، جنکا مقصد ویکسین کی تیاری میں تیزی لانا تھا، کا بار بار ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخاب کے دن تک بہت سے افراد کو ویکسین میسر ہو گی۔ حکومتی اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے انتخاب سے پہلے ویکسین آنے کے خیال کو غیر حقیقی قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے رواں ماہ ایک ویڈیو پیغام میں ویکسین کی تیاری میں تاخیر کو ’سیاست‘ قرار دیا تھا۔ صدر نے کہا تھا کہ ’’میرا خیال تھا کہ ہم الیکشن سے قبل ویکسین تیار کر لیں گے، لیکن یہ معاملہ سیاست کی نذر ہو گیا، کوئی بات نہیں وہ اپنا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں، الیکشن کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘لیکن صدر نے اپنے ویڈیو پیغام میں یہ نہیں بتایا کہ ویکسین کی تیاری کے معاملے کو کس نے سیاست کی نذر کیا۔فائزر کے سی ای او البرٹ باؤرلا نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ اکتوبر کے آخر میں کمپنی کو معلوم ہو جائیگا کہ اس کی ویکسین کام کرتی ہے یا نہیں مگر اس کے محفوظ ہونے سے متعلق منظوری نومبر کے آخر سے قبل ممکن نہیں۔فائزر نے کورونا کی ویکسین کیلئے نیا طریقہ اپنایا ہے۔ بجائے کہ مریضوں کو مردہ یا کمزور وائرس کی خوراک دی جائے، ویکسین میں جینیاتی معلومات موجود ہے۔ جسم اس کو پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے وائرس بناتا ہے جس سے جسم کا مدافعتی نظام لڑتا ہے۔ فائزر جرمن بائیوٹک فرم، ’بائیو این ٹیک‘ کیساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کر رہا ہے۔