امریکی انتخابات : ہندوستانی نژاد امریکی ووٹرس میں زبردست جوش و خروش

   

کملا ہیریس کے علاوہ اوشاوینس، نکی ہیلی اور وویک راما سوامی بھی پسندیدہ شخصیات میں شامل

ویب ڈیسک۔امریکی نائب صدر کملا ہیریس کے ڈرامائی طور پر ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی ٹکٹ پر سرِ فہرست آنے سے بہت سے ہندوستانی نژاد امریکیوں میں ایک قوت پیدا ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کمیونٹی کا سیاسی کردار تیزی سے بڑھا ہے اور بڑے پیمانے پر جوش پیدا ہوا ہے۔ ہیریس کا تعلق ہندوستان اور جمیکا سے ہے، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ اتوار کو صدر جو بائیڈن کے انتخابی دوڑ سے الگ ہو جانے کے بعد پہلی ایسی خاتون صدارتی امیدوار بن سکتی ہیں جو سفید فام نہیں ہیں۔ مگر یہ جوش و خروش صرف ان کی نامزدگی کے لیے نہیں ہے۔ کئی ہندوستانی ، امریکی بلا لحاظ سیاسی جھکاؤ، یکساں طور پر دیگر ہندوستانی نژاد معروف شخصیات کے قومی سطح پر ممتاز نظر آنے پربہت پر جوش ہیں۔ان میں اوشا وینس ہیں جو نائب صدر کے ریپبلکن امیدوار جے ڈی وینس کی اہلیہ ہیں اس کے علاوہ نکی ہیلی اور وویک راماسوامی۔ شیکر نرسمہن ایک super PAC یعنی ایک بڑی پولیٹیکل ایکشن کمیٹی کے بانی اور چئیر ہیں جن کی توجہ ایشیائی امریکیوں اور بحر الکاہل کے جزیرے کے باسیوں کو متحرک کرنے اور ڈیمو کریٹک امیدواروں کی حمایت کرنے پر ہے۔ نرسمہان یاد کرتے ہیں کہ جب بائیڈن کے صدارتی دوڑ سے دست بردار ہونے کی خبر آئی تو وہ 130 لوگوں سے فون پر بات کر رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر چیز کی لائٹ جل اٹھی، واقعتاً، چیٹس، ڈی ایمز، فونز۔ لیکن اس سب میں جوش تھا، حیرانی نہیں تھی۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، ایسا تھا کہ اوہ خدایا۔۔آئیے یہ زندگی کا بڑا موقع ہے کہ ہم اپنی طاقت دکھا سکیں۔ یہ جوش وخروش سیاسی سطح پر ہے۔ نیو جرسی ریپبلکن پارٹی کے ساؤتھ ایشیا کوایلیشن کی شریک بانی پریتی پانڈیا پٹیل کہتی ہیں کہ کمیونٹی میں اوشا وینس کے ملک کی پہلی ہندوستانی نژاد امریکی خاتونِ دوم بننے کے امکان کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک قابلِ فخر لمحہ ہے اپنی کمیونٹی کو واقعتاً نمایاں دیکھنے کا۔ میرا خیال ہے اس سے ہماری ہندوستانی کمیونٹی یقیناً بہت خوش ہے۔ ہندوستان، امریکی، امریکہ میں تارکینِ وطن کی تیزی سے پھیلتی ہوئی کمیونٹی ہیں جس میں 1990 کی دہائی کے بعد دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ آج امریکہ میں اندازہً پچاس لاکھ لوگ ہندوستانی نژاد ہیں۔ اور یہ ایشیائی امریکی آبادی کا سب سے بڑا اور میکسیکنز کے بعد تارکینِ وطن کا دوسرا بڑا گروپ پے۔ اگرچہ ہندوستانی امریکی دیگر کسی بھی ایشیائی امریکی گروپ کی نسبت ڈیمو کریٹس کو سب سے زیادہ ووٹ دیتے ہیں تاہم ان میں لگ بھگ 20 فیصد خود کو ری پبلیکن بھی کہتے ہیں۔ روایتی طور پر ہندوستانی امریکی کمیونٹی دوسری کمیونیٹیز کی نسبت سیاسی طور پر کم فعال خیال کی جاتی ہے۔ تاہم کمیونٹی کے اندر سیاسی سرگرمی کے آثار موجود ہیں۔ ایشیائی امریکیوں کے ایک حالیہ سروے میں جس میں ہندوستانی نژاد لوگوں سے بات کی گئی، 90 فیصد ہندوستانیوں نے کہا کہ وہ نومبر کے الیکشن میں ووٹ دینا چاہتے ہیں حالانکہ ان میں سے 42 فیصد سے پارٹی یا کسی امیدوار نے رابطہ نہیں کیا۔ امیریکن ہندو کو ایلیشن ایک نان پارٹیسن تنظیم ہے۔ اس کی شریک بانی اور ایگزیکیٹو ڈائریکٹر سوہاگ شکلہ کہتی ہیں، چنانچہ اس سے رابطوں میں ممکنہ خلا ظاہر ہوتا ہے۔ شکلہ نے کہا کہ انتخابات، ہندوستانی۔ امریکی کمیونٹی اور دو بڑی سیاسی پارٹیوں کیلئے ایک بڑا موقع فراہم کرتے ہیں۔
وائس آف امیریکہ سے ایک انٹرویو میں شکلہ نے امریکی صدارتی انتخاب میں بیٹل گراؤنڈ ریاستوں یعنی ان ریاستوں کا جہاں سخت مقابلہ ہے، ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے ہندوستانی امریکیوں کو اپنی طاقت کا اندازہ ہونا چاہئے کیونکہ ہم میں سے بہت سے پرپل اسٹیٹس یا پرپل ڈسٹرکٹس میں رہتے ہیں۔ دوسری طرف میرا خیال ہے کہ یہ پارٹیوں کے لیے موقع ہے کہ وہ صرف ہاں یا ناں کے چیک مارک کو نہ دیکھیں بلکہ صحیح معنوں میں رابطہ کریں۔ ٹاؤن ہال میٹنگز بلائیں۔ لوگوں کی بات سنیں۔ ہیریس اور ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ترجمانوں نے کمیونٹی میں رابطوں کی کوششوں کے بارے میں سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ دونوں کی انتخابی مہم عوامی سطح کی تنظیموں کے ذریعہ ووٹروں کو تحریک دلاتی ہے۔