امریکی انتخابی مہم میں اس بار بھی روسی مداخلت کے الزام

   

واشنگٹن۔22فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے رواں سال امریکہ میں ہونے والے انتخابات میں مداخلت کے الزام کو غم و غصہ کے ساتھ مسترد کردیاجبکہ ڈیموکریٹس نے امریکی صدر پر جمہوریت کو دھوکا دینے کا الزام لگایا۔امریکہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کے سربراہ جوزف میگوئر نے قانون سازوں کو گزشتہ ہفتہ بریفنگ میں امریکہ میں رواں سال نومبر کے مہینے میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت کے لئے خبر دار کیا تھا۔بعد ازاں امریکی صدر نے 19 فروری کوانہیں تبدیل بھی کردیا تھا۔امریکی ا نٹلیجنس کمیونٹی نے عوام کے سامنے بیان دیا تھا کہ 2016ء کے انتخابات میں روس نے مداخلت کی تاہم جوزف میگوئر کا کہنا تھا کہ ماسکو چاہتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ دوبارہ انتخابات جیتیں اور اس کیلئے وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمریز میں مداخلت کر رہا ہے ۔متعدد مرتبہ روسی مداخلت کے الزامات کو مسترد کرنے والے امریکی صدر نے نئے الزامات کو بھی مسترد کردیا۔ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس میں ایک اور غلط معلومات پر مبنی مہم کا ڈیموکریٹس نے آغاز کیا ہے اور کہا ہے کہ روس ڈیموکریٹس کے امیدوار، جو کچھ نہیں کرتے اور اب بھی آئی اووا کے ووٹ نہیں گن سکے ہیں، پر مجھے ترجیح دیتا ہے۔ماسکو میں کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ یہ الزامات ایسے مذموم اعلانات کی طرح ہیں جن میں انتخابات کے قریب آتے ہی اضافہ ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے جولائی 2018 ء میں ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اعتراف کیا تھا کہ ماسکو انہیں اپنے حریف ہلاری کلنٹن کے سامنے دوست سمجھتا ہے ۔ایف بی آئی کے سابق سربراہ رابرٹ میولر کی جامع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ روس نے ٹرمپ کی حمایت میں مداخلت کی تھی تاہم یہ نہیں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کی مہم ماسکو سے ہی چلائی گئی تھی۔امریکی صدر پر بعد ازاں روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے لڑنے والے یوکرین کے لئے فوجی امداد روکنے پر مواخذے کی کارروائی بھی کی گئی تھی۔