واشنگٹن : امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے رپورٹ کیا کہ ایک خفیہ امریکی انٹیلی جنس دستاویزمیں گذشتہ فروری میں پیش گوئی کی تھی کہ لبنانی حزب اللہ کے اسرائیل پر بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کا امکان نہیں ہے۔اخبار نے نشاندہی کی کہ دستاویز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان توازن کی وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خطرات کم ہو گئے ہیںلیکن انہوں نے کہا کہ ان نتائج کا تجربہ حماس کی طرف سے گذشتہ ہفتے کے روز اسرائیل پر کیے گئے حملے کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے سے امریکی اور اسرائیلی حکام مکمل طور پر حیران ہیں۔ یہ ان کیلئے سرپرائز تھا۔امریکی حکام نے مزید کہا کہ جوائنٹ سٹاف انٹلیجنس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے تیار کردہ انٹلیجنس تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر 2022 میں ایک تاریخی معاہدہ تک پہنچنے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ باہمی ڈیٹرنس کی پوزیشن میں آگئے ہیں جس کے مطابق لبنان اور اسرائیل نے اپنی متنازعہ سمندری سرحدوں کی حد بندی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔