تل ابیب: ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہیکہ غزہ میں جنگ کے دوران حماس کے وجود کو ختم کرنا ناگزیرہے ۔ حماس کے تعلق سے امریکہ اور اسرائیل میں اختلاف نہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے سینئر مشیر مارک ریگیو نے وضاحت کی کہ اگرچہ امریکی انتظامیہ اور ان کے ملک کے درمیان جنگ کے حوالہ سے اختلافات ہیں لیکن دونوں ہی حماس کا خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “ہم واشنگٹن کی ہربات کو بہت غور سے سنتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی ہماری ہر بات کو بہت غور سے سنتے ہیں”۔لیکن انہوں نے زور دیا کہ آخر میں “دونوں فریق حماس کو تباہ کرنے پر متفق ہیں”۔انہوں نے کہا کہ “اس مقصد کو حاصل کرنا صرف کچھ وقت کی بات ہے “۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نتن یاھو کے قریبی وزیر سٹریٹجک امور رون ڈرمر نے وائٹ ہاؤس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام سے ملاقات کی تاکہ غزہ میں جنگ کے اگلے مرحلے پر بات چیت کی جا سکے ۔ادھر اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے کل اس بات کی تصدیق کی کہ 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ حماس کے خاتمے کے بعد کئی مہینوں تک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کیلئے کوئی جادوئی حل اور شارٹ کٹ نہیں ہیں۔جب کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک جنگ بندی اور شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کو کم کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ترین اعدادوشمار میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 20,000 سے زیادہ ہو گئی ہے ۔