امریکی ایٹمی آبدوزوں کی تعیناتی پر روس کی وارننگ

   

ماسکو۔ 5 اگست (ایجنسیز) روس نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیوکلیئر آبدوزیں تعینات کرنے کے اعلان پر خبردار کیا ہے کہ نیوکلیئر معاملات پر بیان بازی میں ’’انتہائی احتیاط‘‘ کی ضرورت ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کے روز کہا کہ روس نیوکلیئر عدم پھیلاؤ کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہر کسی کو نیوکلیئر بیانات کے حوالے سے بہت زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ یہ بیان اس وقت آیا جب صدر ٹرمپ نے سابق روسی صدر دمتری مدویدیف کے مبینہ ’’اشتعال انگیز تبصرے‘‘ کے جواب میں دو نیوکلیئر آبدوزیں تعینات کرنے کا اعلان کیا۔ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا آبدوزیں نیوکلیئر اسلحہ سے لیس ہوں گی یا صرف نیوکلیئر توانائی سے چلنے والی ہوں گی، اور ان کی جگہ بھی ظاہر نہیں کی — جو کہ امریکی فوج کی جانب سے خفیہ رکھی جاتی ہے۔یہ کشیدگی ایک آن لائن جھگڑے کے بعد بڑھی جس میں مدویدیف نے ٹرمپ کے یوکرین جنگ پر روس کے خلاف الٹی میٹم دینے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ مدویدیف نے کہا کہ ہر نیا الٹی میٹم ایک خطرہ ہے اور جنگ کی طرف ایک قدم ہے ۔نہ صرف روس اور یوکرین کے درمیان، بلکہ امریکہ کے خلاف بھی۔’’مدویدیف، جو اس وقت روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین ہیں، 2008 سے 2012 تک روس کے صدر رہے، جبکہ ولادیمیر پوٹن نے آئینی پابندیوں سے بچنے کیلئے انہیں بطور ’’عارضی صدر‘‘ استعمال کیا۔

یوکرین جنگ : پاکستانی دفترخارجہ کا سخت ردعمل
اسلام آباد ۔ 5 اگست (ایجنسیز) پاکستان نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کے یوکرین کے تنازعہ میں پاکستانی فوجیوں کے ملوث ہونے کے الزام کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔منگل کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرینی حکام نے اپنے دعوے کے حوالے سے کوئی قابل تصدیق ثبوت فراہم نہیں کیے اور نہ ہی باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔ اس محاذ پر ہمارے جنگجو پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہیکہ ’حکومت پاکستان یوکرین کے ان بے بنیاد اور من گھڑت دعوؤں کو مسترد کرتی ہے۔ اب تک ایسے دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق شواہد نہیں پیش کیے گئے۔’حکومت اس معاملے کو یوکرینی حکام کے ساتھ اٹھائے گی اور اس بارے میں وضاحت طلب کرے گی۔
روس، امریکی پابندیوں سے نمٹنے برکس کیساتھ تعاون بڑھائیگا
ماسکو، 5 اگست (یو این آئی) روسی دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ روس امریکی پابندیوں کے اثر سے نمٹنے کیلئے برکس ممالک سے تعاون بڑھائے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا ذاخارووا نے کہا کہ امریکی پابندیاں لگنے کی صورت میں، صورتحال سے نمٹنے کیلئے روس اب گلوبل ساؤتھ ممالک اور برکس کے ممبر ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دے گا۔ماریا ذاخارووا نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے گلوبل ساؤتھ ممالک پر ٹیرف کی پالیسی، ان ممالک کی خودمختاری اور داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے ۔ترجمان نے واضح کیا کہ اس سے لگتا ہے کہ پابندیاں لگانے کا مقصد صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے ۔