اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے سینیٹر رحمن ملک کو امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے لگائے گئے ریپ کے الزامات پر فوجداری مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کے خلاف دائر اپیل پر نوٹس جاری کردیا۔’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق نوٹس کے ذریعے جسٹس عامر فاروق نے سینیٹر رحمن ملک سے ستمبر کے پہلے ہفتے تک جواب طلب کرلیا۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے 5 اگست کو سینیٹر رحمن ملک کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کرنے کی سنتھییا رچی کی درخواست کو پولیس رپورٹ میں اسے بے بنیاد قرار دیے جانے کے بعد مسترد کردیا تھا۔پولیس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سنتھیا رچی نے ریپ کے الزام کی تصدیق کے لئے نہ تو کوئی ثبوت پیش کیا اور نہ ہی ایسا کوئی مواد پیش کیا کہ اسے پریشان و ہراساں کیا گیا ہے۔سیکریٹریٹ پولیس اسٹیشن میں 17 جون کو داخل کی گئی اپنی درخواست میں سنتھیا رچی نے رحمن ملک پر 2011 میں ان کی رہائش گاہ پر ریپ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق وزیر داخلہ نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملکر پاکستان پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل کو سوشل میڈیا پر انہیں دھمکانے، ہراساں کرنے اور بدنام کرنے کا کام دیا ہے۔عدالتی حکم کے جواب میں پولیس نے کہا کہ سنتھیا رچی نے ریپ کے الزامات کے سلسلے میں 2011 میں پولیس اسٹیشن میں کوئی شکایت درج نہیں کی تھی کہ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔ پولیس کو اس میں کوئی حقیقت نہیں ملی جس کی وجہ سے یہ ایف آئی آر کے اندراج کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔سیشن عدالت کی جانب سے ان کی درخواست خارج کرنے کیخلاف اپیل میں سنتھیا رچی نے کہا کہ سینیٹر رحمن ملک نے ’’گھناؤنا اور قابل شناخت جرم‘‘ کیا ہے تاہم پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔