امریکی تجارتی معاہدہ کے ذریعے مودی نے ملک کو ’فروخت‘ کر دیا

,

   

معاہدہ زرعی مسائل پر 4 ماہ تک رکا رہا ، وزیراعظم نے کابینہ سے مشاورت کئے بغیر دستخط کردیئے: راہول

بھوپال، 24 فروری (یو این آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے منگل کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے کے لیے ہند۔امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے ذریعے ملک کو ’’فروخت‘‘ کر دیا ہے ۔کسان مہاچوپال سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی دباؤ میں تھے ۔ معاہدہ دباؤ کے تحت کیا گیا۔ حتیٰ کہ امریکی سپریم کورٹ نے بھی اسے مسترد کر دیا۔ میں مودی کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس معاہدے کو منسوخ کریں۔ وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ میں ہیں۔ اکیسویں صدی ڈیٹا کی صدی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ ڈیٹا ہندوستان کے پاس ہے ۔ اس معاہدے کے پسِ پردہ مودی نے سارا ڈیٹا امریکہ کے حوالے کر دیا۔ اس معاہدے کے تحت ہر سال نو لاکھ کروڑ روپے مالیت کا سامان امریکہ سے خریدنا ہوگا۔ ہماری ٹیکسٹائل صنعت تباہ ہو جائے گی۔ راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ زرعی مسائل کی وجہ سے چار ماہ تک رکا رہا، لیکن وزیرِ اعظم نے اپنی کابینہ سے مشاورت کیے بغیر اس پر دستخط کر دیے ۔راہول گاندھی نے مزید الزام لگایا کہ ”مودی نے دو وجوہات کی بنا پر کسانوں کو بیچ دیا۔ امریکہ میں ایپسٹین فائلیں بند پڑی ہیں۔ مرکزی وزیر ہردیپ پوری کا نام سامنے آیا ہے ۔ مودی کو قوم کو بتانا چاہیے کہ صنعت کار انیل امبانی سے ان کے کیا تعلقات ہیں۔ ہمیں ہر جگہ گوتم اڈانی کا نام نظر آتا ہے کیونکہ اڈانی کمپنیاں نریندر مودی کے مالی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ امریکہ میں اڈانی کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چل رہا ہے ، اصل نشانہ نریندر مودی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدارتی خطاب کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ وہ سابق چیف آف آرمی اسٹاف منوج مکند نروانے کا معاملہ اٹھانا چاہتے تھے ۔راہول گاندھی کے مطابق جب چینی ٹینک ہماری سرحد میں داخل ہوئے تو جنرل نروانے نے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ سے رابطہ کیا، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔
بعد ازاں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ دو گھنٹے بعد جنرل نے دوبارہ وزیرِ دفاع سے کہا کہ وزیرِ اعظم سے پوچھیں کہ میرے لیے کیا حکم ہے ، کیونکہ جنگ کا فیصلہ سیاسی ہوتا ہے ، فوجی نہیں۔