تہران ۔ 16 جنوری (ایجنسیز) اقوام متحدہ میں ایران کے نائب مندوب غلام حسین درزی نے کہا ہے کہ ان کا ملک محاذ آرائی یا کشیدگی نہیں چاہتا، لیکن کسی بھی جارحانہ اقدام کا، خواہ وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ “فیصلہ کن، مناسب اور قانونی طور پر” جواب دیا جائے گا۔تہران کی صورتحال پر جمعرات کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران درزی نے امریکہ پر احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے گمراہ کن مہم چلانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ امریکی مندوب کے بیانات “جھوٹ” پر مبنی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلح گروہوں نے پْر امن احتجاج کو ہائی جیک کر لیا ہے اور واشنگٹن اس فوجی مداخلت کا جواز تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی وہ دھمکی دے رہا ہے، تاکہ ایران میں نظام کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔اسی طرح ایرانی نائب مندوب نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ امریکہ کو اپنے ملک کے خلاف ایک “جارحانہ جنگ” میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔دوسری جانب، اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے کہا کہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران میں ہونے والی خلاف ورزیاں “اقوامی متحدہ کی رپورٹس کے ذریعے دستاویزی شکل میں موجود ہیں”۔والٹز نے مزید کہا کہ جاری تشدد کے عالمی امن و سکیورٹی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے اور ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ “محض اندرونی معاملہ نہیں ہے”۔واشنگٹن کی جانب سے بلائے گئے سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں امریکی مندوب نے ایرانی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ عوامی مفاد کی قیمت پر اپنے میزائل اور ایٹمی پروگراموں کی مالی معاونت کر رہی ہے اور امریکیوں کے خلاف بار بار حملے کر رہی ہے۔ انہوں نے ان اندازوں کا بھی ذکر کیا جن کے مطابق احتجاج کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔