قاہرہ۔ 24 نومبر(ایجنسیز) سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے امریکہ کی زیرِ قیادت ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی نئی جنگ بندی تجاویزکو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے اب تک کا بدترین منصوبہ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک 30 ماہ سے تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ویڈیو بیان میں البرہان نے ثالثوں پر الزام لگایا کہ وہ جانبدار ہیں اور ان کی کوششیں قابلِ قبول نہیں۔ سوڈان میں اپریل2023 میں اس وقت خانہ جنگی شروع ہوئی جب فوج اور طاقتور نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز(آر ایس ایف) کے درمیان طاقت کی کشمکش کھلی لڑائی میں بدل گئی۔ اس جنگ نے دارالحکومت خرطوم سمیت ملک بھر کو متاثر کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 40 ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں، جبکہ امدادی اداروں نے کہا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ جنگ کے نتیجے میں دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے، 1 کروڑ 40 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے، امریکہ، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل کواڈ نامی گروپ گزشتہ دو برس سے لڑائی رکوانے اور جمہوری انتقالِ اقتدار کی راہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جسے 2021 کی فوجی بغاوت نے نقصان پہنچایا تھا۔ اس ماہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ سوڈان کی جنگ ختم کرنے کے لیے زیادہ توجہ دیں گے، یہ اعلان انہوں نے اس وقت کیا جب سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس دورے میں اس معاملے پر فوری اقدام کی درخواست کی۔ امریکی افریقی امور کے مشیر مصاد بولوص کے مطابق حالیہ تجویز میں تین ماہ کی انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور اس کے بعد نو ماہ کے سیاسی عمل کی شقیں شامل تھیں۔ آر ایس ایف نے اس منصوبے سے اتفاق کیا ہے، کیونکہ عالمی برادری دارفور کے شہر الفاشر میں اس گروہ کی مبینہ زیادتیوں پر سخت ردعمل ظاہر کر رہی ہے۔ تاہم البرہان نے کہا کہ یہ دستاویز بدترین ہے ۔