نئی دہلی 7 اپریل (ایجنسیز) امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے دوران ایران نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ملک کے سرکاری میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج آئی آرجی سی نے امریکی صدر کے جارحانہ بیانات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔ آئی آر جی سی کے خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری نے دعویٰ کیا کہ پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے اسرائیلی کنٹینر جہاز ایس ڈی این 7پر کروز میزائل سے حملہ کیا۔ اس حملے سے بھیانک آگ لگ گئی اور تباہ ہو گیا۔ امریکی حملہ آور جہاز ایل ایچ اے7 بھی دونوں فریقوں کے درمیان ہوئی شدید گولہ باری کی زد میں آ گیا۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کی وجہ سے امریکی بحری جہازوں کو بحر ہند میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس دوران آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورس نے اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں اہم مقامات کو نشانہ بنایا۔ حیفہ میں اسٹریٹجک مراکز اور بیئر شیوا میں کیمیائی پلانٹس پر بھی حملہ کیا گیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق فوج نے پیٹہ تکوا میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک دستے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔آئی آر جی سی کے مطابق ایرانی فوج کے آپریشن وعدہ صادق۔4‘ کے 98 ویں مرحلے میں دو بارحملے کئے گئے۔ وہیں کویت میں امریکی الادیری بیس پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔ اس سے پہلے ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچانے کیساتھ ساتھ امریکی فوجیوں کے ٹھکانے کو تباہ کر دیا۔ ادھر عراقی اسلامی مزاحمت نے بغداد میں امریکی وکٹوریہ بیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو بھی نشانہ بنایا۔ دوسری طرف عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیلی شہر حیفہ کی کئی عمارتیں ایرانی حملوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جہاں 18 گھنٹوں سے جاری ریسکیو آپریشن کے بعد 4 لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ 4 افراد زخمی ہیں جن میں ایک کی حالت نازک ہے۔ اسرائیلی فورسز نے کہا کہ بیلسٹک میزائل کا وارہیڈ زمین سے ٹکرانے کے باوجود نہیں پھٹا جس میں اندازاً سیکڑوں کیلوگرام بارودی مواد موجود تھا۔ اگر یہ پھٹ جاتا تو پوری عمارت تباہ ہوسکتی تھی اور قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچتا اور کئی منزلیں تباہ ہوگئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی فضائیہ کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق میزائل فضا میں تباہ کردیا گیا تھا جس کے باعث فضا میں اس کا راستہ بدل گیا اور میزائل کا ایک حصہ رہائش عمارت پر آن گرا۔ ابھی ریسکیو ادارے امدادی کاموں سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ ایران نے صبح سویرے اسی علاقے میں دوبارہ حملہ کردیا اور اس بار کلسٹر وارہیڈ استعمال کیا گیا جس میں مزید 4 افراد زخمی ہوگئے۔ k