امریکی ریاست میں بھی ٹرمپ کے الیکشن لڑنے پر پابندی

   

جاریہ ماہ کے اوائل میں کولوراڈو کی سپریم کورٹ نے بھی ٹرمپ کو انتخابات کیلئے نااہل قرار دیا تھا

نیویارک: امریکی ریاست مین ملک کی ایسی دوسری ریاست ہے، جس نے ڈونالڈ ٹرمپ کو 2020 کے انتخابات کو پلٹنے کی کوششیں کرنے کے الزام میں آئندہ برس کے صدارتی انتخابات کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔ امریکی ریاست مین کے اعلی انتخابی عہدیدار نے جمعرات کے روز اپنے ایک اہم فیصلے میں سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ریاست کے 2024 کے صدارتی پرائمری بیلٹ سے باہر کرنے کا اعلان کیا۔اس طرح مین امریکہ کی ایسی دوسری ریاست بن گئی، جس نے یہ تعین کیا ہے کہ سابق صدر ٹرمپ نے چونکہ 2020 کے انتخابات کے نتائج کو پلٹنے کی کوششیں کی تھیں، اس لیے وہ دوبارہ اس عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔رواں ماہ کے اوائل میں ریاست کولوراڈو کی سپریم کورٹ نے سب سے پہلے ٹرمپ کو ریاست کے بیلٹ سے نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اس کے بعد جمعرات کو ریاست مین کی سکریٹری آف اسٹیٹ شینا بیلوز کا یہ فیصلہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ کولوراڈو کی سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیر معمولی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ عدالت نے آئین کی چودہویں ترمیم کی دفعہ تین کا اطلاق کسی سابق صدر کو نااہل قرار دینے کے لیے کیا ہو۔البتہ اس فیصلے کا ابھی نفاذ نہیں ہوا ہے اور اس پر اس وقت تک کے لیے روک لگا دی گئی ہے جب تک کہ امریکی سپریم کورٹ یہ فیصلہ نہیں کر دیتی کہ آیا ٹرمپ کو اس ترمیم کے تحت روکنا درست ہے یا نہیں۔واضح رہے کہ امریکی آئین میں چودہویں ترمیم کی دفعہ تین کے تحت ”بغاوت میں ملوث” افراد کو سرکاری عہدہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ ریاست مین کی سکریٹری آف اسٹیٹ شینا بیلوز ایک ڈیموکریٹ ہیں۔ ان کی جانب سے سابق صدر کو یکطرفہ طور پر نااہل قرار دینے کا فیصلہ کسی انتخابی عہدیدار کا ایسا پہلا فیصلہ ہے۔ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ٹیم نے فوری طور پر اس فیصلے پر تنقید کی۔ مہم کے ترجمان اسٹیون چیونگ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس وقت، انتخابات کی چوری کی کوشش اور امریکی ووٹرز کے حق رائے دہی سے محروم ہونے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی مہم کی ٹیم نے کہا کہ وہ بیلوز کے فیصلے کے خلاف مین کی ریاستی عدالت میں اپیل کریں گے اور امکان ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت بھی اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی کہ آیا ٹرمپ وہاں اور دیگر ریاستوں میں انتخاب لڑنے کے اہل ہوں گے یا نہیں۔ ریاست کی اعلی انتخابی عہدیدار بیلوز نے کہا کہ چھ جنوری کو امریکی کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے میں اپنے کردار کی وجہ سے ٹرمپ مزید اس عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس نتیجہ پر وہ اتنی آسانی نہیں پہنچیں۔اپنے 34 صفحات کے فیصلے میں بیلوز نے لکھا کہ مجھے یاد ہے کہ کسی بھی سکریٹری آف اسٹیٹ نے سیکشن تین کی بنیاد پر صدارتی امیدوار کو بیلٹ تک رسائی سے محروم نہیں کیا ہے۔”تاہم چودھویں ترمیم کے تحت، مجھے یہ بات بھی ذہن نشین ہے کہ اس سے پہلے کوئی بھی صدارتی امیدوار بغاوت جیسی سرگرمی میں ملوث نہیں رہا ہے۔