امریکی ریاست کولوراڈو میں فائرنگ، پولیس افسر سمیت 10 ہلاک

,

   

Ferty9 Clinic

اندرون ایک ہفتہ فائرنگ کا دوسرا مہلک ترین واقعہ، امریکہ کی جدید تاریخ میں سب سے بڑے اور خطرناک واقعات کولوراڈو میں رونما ہوئے

بولڈر (یو ایس) ۔ امریکہ کی مغربی ریاست کولوراڈو کے علاقے بولڈر میں ایک مسلح شخص نے سپر مارکیٹ میں فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں جائے وقوع پر پہنچنے والے پہلے پولیس افسر سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ میں فائرنگ کا دوسرا مہلک ترین واقعہ ہے۔ بولڈر کے کنگ سوپر گروسری اسٹور میں دوپہر 3 بجے فائرنگ شروع کی گئی جس کا پسِ پردہ مقصد تاحال غیر واضح ہے جبکہ پولیس کی جانب سے بھی اس واقعہ کی فوری طور پر بہت کم تفصیلات فراہم کی گئیں۔ واقعہ کے فوراً بعد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بھاری جمیعت موقع پر پہنچ گئی جبکہ خریداری کے لیے آئے افراد اور ملازمین جان بچاتے ہوئے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس ضمن میں بولڈر پولیس کی سربراہ میرس ہیرولڈ نے جذباتی ہوتے ہوئے بتایا کہ کنگ سپر گروسری اسٹور میں ہوئے اس حملے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حملے میں 51 سالہ پولیس افسر بھی ہلاک ہوگئے جو جائے وقوع پر پہنچنے والے پہلے پولیس افسر تھے اور 7 بچوں کے والد تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کی عوامی طور پر شناخت نہیں کی جاسکی اور وہ بھی اس پر تشدد کارروائی میں زخمی ہوا تاہم پولیس نے اس کے علاوہ مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ جائے وقوع کی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ باکسر شارٹس پہنے ایک نیم برہنہ شخص کو ہتھکڑی لگا کر اسٹور سے باہر لایا گیا اور اسٹریچر پر لٹا کر ایمبولینس میں داخل کردیا گیا جس کی ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا اور وہ لنگڑا کر چل رہا تھا۔ خیال رہے کہ امریکہ کی جدید تاریخ میں فائرنگ کے سب سے بڑے اور خطرناک واقعات کولوراڈو میں رونما ہوئے ہیں۔ پولیس نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ فائرنگ کے واقعہ میں کس قسم کا ہتھیار استعمال کیا گیا تاہم 911 ہنگامی سروس پر موصول ہونے والی کالز میں کہا گیا کہ ملزم کے پاس آتشیں اسلحہ جیسا کہ ‘پستول رائفل’ ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل ہی امریکہ کی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا اور ایک نواحی علاقے میں 3 مساج پارلرز میں فائرنگ سے خواتین سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں سے اکثر ایشیائی نژاد تھے خیال رہے کہ امریکہ میں اسلحہ بآسانی دستیاب ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں جس کے باعث انسانی حقوق کی تنظیمیں ہتھیاروں کے قوانین کو مزید مؤثر بنانے کا پرزور مطالبہ کرتی ہیں۔ گزشتہ برس نومبر میں امریکی ریاست نیویارک میں رات گئے منعقد پارٹی میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک اور 14 افراد زخمی ہوگئے تھے۔