نیویارک : جن معاشروں کی بنیاد میں انصاف اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ شامل ہو وہاں دوسروں کی حق تلفی ہو اس بات کے امکانات کم رہ جاتے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ جج سونیا سوٹومیئر بھی اسی بات پر یقین رکھتی ہیں اور اسے یقینی بنانے کے لیے اپنی سی کوشش کر رہی ہیں۔ایسے ہی اگر کبھی ہمارے ہاتھ میں کسی قانون دان کی تحریر کردہ کتاب تھمائی جائے تو اسے کھولنے سے بھی پہلے ہم یہ طے کر چکے ہوں گے کہ یا تو یہ سوانح عمری ہے یا پھر اس میں قانون کے دقیق مسئلے زیر بحث لائے گئے ہوگے۔اور یہ تاثر بھی کہ اگر یہ کتاب کسی بڑے جج نے لکھی ہو تو پھر اس میں یقیناً قانون اور انصاف سے متعلق مزید ثقیل موضوعات پر ہی لکھا گیا ہوگا۔