امریکی صدر ٹرمپ کی تارکین وطن پر سخت پالیسی

   

ورک پرمٹ کا خودکار تجدیدی نظام ختم ، ملازمتوں سے محرومی کا امکان
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : تارکین وطن سے متعلق سخت پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں ایک اور سنسنی خیز فیصلہ کیا ہے ۔ اس نے تارکین وطن کے ورک پرمٹ کی خود کار تجدید کو ختم کردیا ہے ۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی نے اس سلسلہ میں ایک اعلان کیا ہے اس کے ساتھ ہی ہزاروں غیر ملکیوں خاص طور پر ہندوستانیوں کو اپنی ملازمتوں سے محروم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ وہ تارکین وطن جو 30 اکٹوبر کو یا اس کے بعد اپنے ورک پرمٹ کی تجدید کے لیے اپلائی کرسکتے ہیں ۔ ان کی خود بہ خود تجدید نہیں ہوگی ۔ نئے قوانین عوامی تحفظ اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں ۔ اس سے قبل بائیڈن انتظامیہ کے دوران تارکین وطن کو ان کے ورک پرمٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد 540 دن تک امریکہ میں کام کرنے کی اجازت تھی ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں اس پالیسی کو ختم کردیا ہے اور نئے قوانین کو عمل میں لایا ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ تارکین وطن ورک پرمٹ میں توسیع کے لیے پیشگی درخواست دیں ۔ ایمیگرینٹس ایمپلائمنٹ آتھرائزیشن ڈاکومنٹس کی تجدید کے لیے اپنی درخواستوں میں جتنی تاخیر کرتے ہیں اتنا ہی کھونے کا ڈر ہے ۔ اس لیے بہتر ہے کہ تجدید 180 روز قبل ہی رینیول کے لیے درخواست داخل کردیں ۔ USCIS نے مشورہ دیا کہ ورک پرمٹ کی میعاد ختم ہونے سے قبل ہی درخواست دیں ۔ امریکہ میں ملازمت ایک موقع ہے ان کے لیے حق نہیں ہیں ۔ EAD ایک دستاویز ہے جو ثابت کرتا ہے کہ ایک شخص کو ایک مدت تک امریکہ میں کام کرنے کا اختیار ہے ۔ اس کے بعد ہی تارکین وطن کو امریکہ میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔ تاہم جنہوں نے گرین کارڈ کے ساتھ مستقل رہائش حاصل کی ہے انہیں دستاویزات کے لیے درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ ش