کانگریس کیلئے دستور ڈی این اے ہے ۔ بی جے پی کیلئے خالی کتاب۔ مہاراشٹرا میں ریلی سے خطاب
امراوتی :کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے آج کہا کہ ان کی پارٹی آئین کو ملک کا ڈی این اے سمجھتی ہے، جب کہ حکمران بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کیلئے یہ ایک کوری (سادی )کتاب ہے۔امراوتی، مہاراشٹر میں ایک ریلی میں، اپوزیشن لیڈر نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور کہا کہ دستور میں کہیں نہیں لکھا کہ ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے ذریعے حکومتوں کا تختہ الٹ دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ مہاراشٹر میں کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی نہیں لکھا کہ بڑے صنعت کاروں کے 16 لاکھ کروڑ کے قرضے معاف کئے جاسکتے ہیں۔راہول نے کہا کہ کانگریس آئین کو ملک کا ڈی این اے مانتی ہے، جبکہ حکمران بی جے پی اور سنگھ کیلئے یہ ایک خالی کتاب ہے۔کانگریس لیڈر نے یہ تبصرہ وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کے حالیہ دعوے کے بعد کیا کہ راہول اپنی انتخابی ریلیوں میں آئین کی ایک کاپی دکھا رہے ہیں جس کے اندر خالی صفحات ہیں۔راہول نے الزام لگایا کہ میری بہن نے مجھے بتایا کہ ان دنوں وزیر اعظم مودی اسی مسئلے پر بات کر رہے ہیں جسے میں اٹھا رہا ہوں۔. میں نے لوک سبھا میں ان سے کہا کہ ذات پات کی مردم شماری ہونی چاہیے اور ریزرویشن کی 50 فیصد حد کو ہٹا دیا جانا چاہیے۔. اب وہ اپنی انتخابی ریلیوں میں کہہ رہے ہیں کہ میں ریزرویشن کے خلاف ہوں۔. وہ سابق امریکی صدر کی طرح یادداشت کی کمی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اب کہیں گے کہ راہول گاندھی ذات پات کی مردم شماری کے خلاف ہیں۔کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ مخالفین نے میری شبیہ کو خراب کرنے اور مجھے بدنام کرنے کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں جب کہ میں دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کیلئے کھڑا ہوں۔راہول گاندھی نے کہا کہ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کسانوں اور چھوٹے کاروباروں کو تباہ کرنے کے ہتھیار ہیں۔. انہوں نے کہا کہ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور اسی وجہ سے معاشرے میں نفرت پھیل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں مودی کو بتانا چاہتا ہوں کہ صنعت کاروں نے آپ کو وزیر اعظم منتخب نہیں کیا، عوام نے آپ کو منتخب کیا ہے۔. یہ سچ ہے کہ صنعت کاروں نے انہیں فروغ دیا ہے۔