ٹرمپ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ حکمرانی کے اہل نہیں، انکی پوری دور صدارت بدنظمی اور بد عہدی سے عبارت:گورنر واشنگٹن
واشنگٹن ۔2 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ میں سیاہ فام جارج فلوئیڈ کی پولیس تحویل میں موت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے ریاستوں کے گورنروں کو کمزور بتاتے ہوئے مظاہرے ختم نہیں ہونے کی صورت میں فوج تعینات کرنے کی دھمکی دی ہے۔ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر مختلف ریاستیں اور شہری انتظامیہ مظاہروں کو کنٹرول کرنے اور اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ مسلح فوج تعینات کر کے ’’فوری طور پر مسئلہ حل کر دیں گے‘‘ ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قومی سطح پر پھیلی ہنگامہ آرائی کو ختم کرنے کے لئے تمام دستیاب وفاقی وسائل کو متحرک کر رہے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں کو گلیوں کے باہر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بڑی تعداد میں نیشنل گارڈز تعینات کرنے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا ’’ اگر انہوں نے کارروائی نہیں کی تو میں امریکی فوج کو تعینات کر دونگا ‘‘۔ امریکی صدر نے پر تشدد مظاہروں کو گھریلو دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ’’ میں ہنگامہ آرائی، لوٹ اور توڑ پھوڑ کی روک تھام کے لیے ہزاروں کی تعداد میں بھاری اسلحوں سے لیس فوج، ملٹری کے عملے اور قانون نافذ کرنے والے افسران کو بھیج رہا ہوں‘‘ ۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی انتخاب کے ممکنہ امیدوار جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کی تجویز پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’’مسٹر ٹرمپ امریکی فوج کو ہی امریکی شہریوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں‘‘ ۔ سینیٹ میں حزب اختلاف کے رہنماچک شومر کا کہنا تھا ’’ یہ صدر کتنی اوچھی حرکت کر سکتا ہے؟ ان کے اعمال ہی اس کی اصل فطرت کی عکاسی کرتے ہیں‘‘ ۔ مختلف ریاستوں کے گورنروں نے بھی صدر ٹرمپ کے اس دھمکی آمیز بیان پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ واشنگٹن کے گورنر جے انسلی نے کہا کہ ٹرمپ نے کئی بار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ حکمرانی کے اہل نہیں ہیں، ان کے پورے دور صدارت میں بارہا پھیلتی بدنظمی کے دوران وہ صرف بڑی بڑی جھوٹی باتیں ہی کرتے رہے ہیں ۔ میں دعا گو ہوں کہ ان کی اس لاپرواہ کارروائی سے کوئی شہری اور فوجی زخمی اور ہلاک نہ ہونے پائے۔اوریگان کی گورنر کیٹ براؤن کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ریاست میں مظاہروں کو دبانے کے لیے نیشنل گارڈز کا استعمال نہیں ہونے دیں گی۔ آپ فوجیوں کو روڈ پر تعینات کرکے تشدد کو کم نہیں کر سکتے ۔ امریکی شہر منی ایپلس کے 46 سالہ سیاہ فام جارج فلوئیڈ پولیس کی تحویل میں ہلاک ہوئے تھے اور جس طرح ان کی موت ہوئی اس کے خلاف امریکہ کی تقریباً ً سبھی 50 ریاستوں میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ کئی واقعات میں تشدد کے بڑے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس پر قابو پانے کے لیے نیو یارک سمیت بیشتر شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس دوران جارج فلوئیڈ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی مںظر عام پر آگئی ہے جس کے مطابق دم گھنٹنے سے ان کی موت ہوئی اور جس طرح وہ ہلاک ہوئے اسے قتل قرار دیا گیا ہے۔ س دوران مختلف شہروں میں پولیس اب تک پانچ ہزار سے بھی زیادہ افراد کو گرفتار کر چکی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
امریکی نسل پرستی سے مسلم برادری بھی متاثر :ماہرین قانون
٭٭ قانونی تجزیہ کاروں کے مطابق،امریکہ میں آباد مسلمان بھی امتیازی سلوک کا شکار ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے مسلم برادری بھی خود کوامریکہ میں اکثریتی سفید فام برادری کے مقابلے میں مساوی حقوق کا حامل نہیں سمجھ سکتی امریکہ میں آباد مسلمان بھی ایک عرصے سے امتیازی سلوک کی شکایات کر رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم برادری بھی خود کو امریکہ میں اکثریتی سفید فام برادری کے مقابلے میں مساوی حقوق کا حامل نہیں سمجھ سکتی۔ اس بارے میںکریمنل لاء کے ماہر عدنان ذولفقار کا کہنا تھا،’’ امریکہ میں مسلم کمیونٹی کا سب سے بڑا حصہ سیاہ فام امریکی باشندے ہیں۔ جو اقدامات ایفرو امریکن باشندوں کو متاثر کرتے ہیں وہ یقیناً پوری مسلم برادری پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر آپ سفید فام نہیں ہیں تو آپ کسی نا کسی دن نسل پرستی کا شکار ضرور ہوں گے۔ یہ ہم نے امریکا میں نائن الیون اور ٹرمپ کے دور میں دیکھ لیا ہے۔ ’’مسلم بین‘‘ کے نام سے چند مسلمان ممالک پر لگنے والی سفری پابندی وغیرہ ، یہ سب کچھ نسل پرستی کی ہی مختلف شکلیں ہیں۔