تہران۔12؍مارچ (ایجنسیز)امریکی بحری جہاز میں خوفناک آگ بھڑک اْٹھی۔بحیرہ احمر میں تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے بڑے حصہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔میڈیا کے مطابق امریکی بحری جہاز میں لگنے والی آگ میں دو اہلکار بری طرح جھلس کر زخمی ہوگئے۔ جنھیں ہاسپٹل منتقل کردیا گیا۔آگ جہاز کے مرکزی لانڈری کے حصہ میں لگی اور پھر تیزی سے پھیلتی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے حصے کو لپیٹ میں لے لیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین ابھی کیا جا رہا ہے۔ واقعہ کی مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور اب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ آگ بیرونی حملے کے باعث نہیں لگی نہ دہشت گردی کے عنصر کے شواہد ملے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ جہاز بدستور مکمل طور پر فعال ہے اور جہاز کے انجن یا پروپلشن نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور طیارہ بردار جہاز اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔اس حادثہ کے بعد تمام پہلووں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ایران نے جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوؤں کو بے معنی قرار دے دیا
تہران، 12 مارچ (یو این آئی) ایران نے جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوؤں کو بے معنی قرار دے دیا ہے ۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہیکہ جب تک ایران کے خلاف جارحیت جاری ہے سیز فائر اور مذاکرات قبول نہیں، دشمن جب چاہے جنگ چھیڑ کر اور جب چاہے جنگ بندی کا اعلان نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم بات دشمن کو واضح پیغام دینا ہے ، ایرانی افواج دشمن کو ایسا سبق سکھانے کیلئے پرعزم ہیں جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایک سال سے کم عرصے میں دوسری مرتبہ ایران پر جارحیت کی ہے ۔ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ ایسے وقت کیا گیا جب واشنگٹن سے بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری تھے ۔ واضح رہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں، پینٹاگون نے کہا تھا کہ جنگ کے پہلے 6 دن میں 11.3 بلین ڈالرز خرچ کیے گئے ۔ صرف استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ خریداری کی لاگت دیکھیں تو وہ پہلے ہی 10 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہے ۔
ایران کا ہائپرسونک میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملہ
تہران، 12مارچ (یو این آئی) پاسدارانِ انقلاب نے دارالحکومت تل ابیب میں صہیونی فوج کے عسکری مراکز کو تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ ایران نے ڈرون حملوں کی تازہ لہر میں اسرائیل کے پاماخیم اور اووداایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ ڈرونز نے اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے شن بیت کے ہیڈ کوارٹر کو بھی تباہ کر دیا۔ ایرانی حملوں میں ایئربیسز کے رن وے ، ہینگرز اور کنٹرول ٹاور کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی جانب سے کارروائی یومِ قدس کی مناسبت سے میجر جنرل محمد پاکپور کی یاد میں کی گئی۔ مقبوضہ گولان، حیفہ اور شمالی اسرائیل پر بھی میزائل داغے گئے ۔ اس سے پہلے ایران اور حزب اللہ کے مشترکہ حملے میں وسطی اسرائیل دھماکوں سے گونج اٹھا۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے راکٹ حملوں میں شیرون میں بڑے پیمانے عمارتوں کونقصان پہنچا۔