امریکی فوجی تعیناتی میں اضافہ پر ایران کا سخت انتباہ‘ اگر حملہ ہوا تو پورا خطہ بڑے پیمانے پر فوجی جھڑپوں کی لپیٹ میں آ جائے گا

,

   

تہران۔ 24 جنوری (ایجنسیز) مغربی ایشیا میں امریکہ نے اہم فوجی تعیناتیاں شروع کر دی ہیں۔ طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی طیاروں سمیت بھاری فوجی ساز و سامان دوبارہ اس خطہ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ایران پر ممکنہ حملے کے تعلق سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ملے جلے اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو پورا خطہ بڑے پیمانے کی فوجی جھڑپوں کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ ادھر اسرائیل کسی بھی اچانک جنگی صورتحال کے لئے تیار نظر آ رہا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے یونائیٹڈ اسٹیٹس سنٹرل کمانڈ کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ امریکہ نے ایف15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیارے اور طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کو ایران کے قریب تعینات کیا ہے جبکہ فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو بھی مستحکم کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ایران کی سمت ایک بڑی طاقت بڑھ رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی کسی کارروائی کا فیصلہ نہیں ہوا البتہ ایران پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ایئر اینڈ اسپیس فورسز میگزین کے مطابق، امریکی فضائیہ کے 12 ایف۔15 ای اسٹرائیک ایگل طیارے برطانیہ سے اردن کے فضائی اڈوں پر منتقل کیے گئے ہیں۔ ایف-15 ای ایک ہمہ جہت جنگی طیارہ ہے، جسے گزشتہ برس ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور امریکہ نے استعمال کیا تھا اور ایرانی ڈرونز کا مقابلہ کیا گیا تھا۔حالیہ احتجاج کے بعد ایران میں صورتحال کشیدہ ہے ۔